03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر، بہنوں اور بھتیجوں میں میراث کی تقسیم کا حکم
82487میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری بہن بلقیس بانو کا 22 فروری 2023 کو انتقال ہوگیا، چند دن بعد ان کے شوہر سلطان کا بھی 30 مارچ 2023 کو انتقال ہوگیا۔ میری بہن کی کوئی اولاد نہیں۔ ہمارے والدین اور چچا وغیرہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ ہم نو (9) بہنیں اور دو (2) بھائی ہیں، دونوں بھائیوں اور تین بہنوں کا انتقال بلقیس بانو کی زندگی میں ہوگیا تھا، جبکہ پانچ بہنیں ان کی وفات کے وقت زندہ تھیں۔ دو مرحوم بھائیوں میں سے بڑے بھائی کا کوئی بیٹا نہیں ہے، صرف ایک بیٹی ہے، جبکہ چھوٹے بھائی کے دو  بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔  

(1)۔۔۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ ہم پانچ بہنوں کے علاوہ میرے بھائی کے بیٹوں کا میری بہن کے ترکہ میں حصہ ہے؟ اگر ہے تو کس حساب سے ہوگا؟

(2)۔۔۔ میرے بہنوئی سلطان کا ایک چچا زاد بھائی اور ایک چچا زاد بہن ہے، کیا اس ترکہ میں ان کا بھی کوئی حصہ ہوگا؟ اگر ہوگا تو کس حساب سے ہوگا؟

(3)۔۔۔ میری ایک بہن کا انتقال بلقیس بانو کے انتقال کے بعد 18 ستمبر 2023 کو ہوا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس بہن کا حصہ کس کو دیا جائے گا؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)۔۔۔ آپ کی ہمشیرہ بلقیس بانو نے مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا چاندی، مالِ تجارت غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا اگر مرحومہ کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے  کوئی قرض واجب ہو، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1)مال کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کو کُل پینتیس (35) حصوں میں تقسیم کر کے شوہر کو پندرہ (15) حصے اور پانچ بہنوں میں سے ہر ایک کو چار، چار (4، 4) حصے دیں۔ بلقیس بانو کے بھتیجوں اور بھتیجیوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔  

مذکورہ بالا تقسیمِ میراث کی کچھ تفصیل:

مذکورہ صورت میں شوہر کو نصف اور پانچ بہنوں کو دو ثلث حصہ ملتا ہے، جبکہ بھتیجے عصبہ بنتے ہیں اور بھتیجیاں ذوی الارحام۔ نصف اور ثلثان جمع ہونے کی وجہ سے مسئلہ چھ سے بنا، جس میں سے تین حصے شوہر کو، جبکہ چار حصے بہنوں کو دئیے گئے۔ مخرج حصوں سے کم پڑگیا، اس لیے مسئلہ نے چھ سے سات کی طرف عول کیا، اور چونکہ ذوی الفروض سے کچھ بچا نہیں، اس لیے عصبات کو کچھ نہیں ملا، جبکہ ذوی الارحام کو ویسے ہی اس صورت میں کچھ ملنے والا نہیں تھا۔ عول کے بعد بہنوں کے حصوں میں کسر تھا، چار پانچ پر پورا پورا تقسیم نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے تصحیح کے لیے کل عددِ رؤوس پانچ کو عول یعنی سات میں ضرب دیا تو جواب پینتیس آیا، پھر عددِ مضروب یعنی پانچ کو شوہر کے حصے میں ضرب دیا تو جواب پندرہ آیا، جبکہ بہنوں کے حصے چار میں ضرب دیا تو جواب بیس آیا جو پانچ بہنوں پر پورا پورا تقسیم ہوگیا اور ہر ایک بہن کو چار، چار حصے مل گئے۔

(2)۔۔۔ نمبر (1) میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق بلقیس بانو کے شوہر سلطان صاحب کو ملنے والا سارا حصہ اس کے چچا زاد بھائی کو ملے گا، چچا زاد بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔  

(3)۔۔۔ نمبر (1) میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق بلقیس بانو کے انتقال کے بعد فوت ہونے والی بہن کو ملنے والا حصہ بارہ (12) حصوں پر تقسیم کر کے اس کی زندہ چار بہنوں اور دو بھتیجوں میں سے ہر ایک کو دو، دو (2، 2) حصے دیدیں۔ مرحومہ کی بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔  

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      26/جمادی الآخرۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب