| 82451 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
ایک شخص نے بیوہ عورت سے شادی کی اس عورت کی ایک جوان بیٹی بھی ہے ، جو اس شخص کی سوتیلی بیٹی بنتی ہے ، اس نے بعد میں سوتیلی بیٹی کے ساتھ زنا کیا ،جس کا لڑکی اقرار کررہی ہے ، وہ شخص خود سعودیہ چلاگیا ، ایسی صورت میں اس عورت کے نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اسی عورت کی حقیقی بیٹی کے ساتھ اس کے شوہر نے زنا کیا ہے ، عورت خود دیندار ہے ، صوم وصلاة کے پابند ہے ۔اب یہ عورت اس مرد کے لئے حلال ہے یاحرام ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنی منکوحہ عورت کی سابق شوہر سے بیٹی جس کو فقہا کی اصطلاح میں ربیبہ کہا جاتا ہے ، یہ آدمی کے لئے اپنی حقیقی بیٹی کی طرح ہے ، آدمی پر لازم ہے کہ اس کی عصمت کی بھی اسی طرح حفاظت کرجس طرح اپنی بیٹی کی کرتا ہے ، اس کی عصمت کی حفاظت کی بجا ئے خود اس کے ساتھ زنا کاری میں مبتلا ہونا ،کسی عام عورت کے ساتھ زنا کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ حکومت اسلامیہ کے ذمے لازم ہے کہ ایسے شخص کو گرفتار کرکے سرعام سنگسار کرے ،تاہم عوام کے لئے جائز نہیں کہ معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیکر خود سے قتل وغیرہ کا کوئی قدم اٹھائے اس میں فتنہ فساد بڑھنے کا خطرہ ہے ۔بہر حال اگر حقیقة یہ گناہ اس شخص سے صادر ہوا ہے تو اس بدکاری کے نتیجہ میں اس کی منکوحہ بیوی یعنی مزنیہ لڑکی کی ماں اس شخص پر حرام ہوگئی ،اب اس عورت کے ساتھ میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا حرام ہے ، اس پر لازم ہے کہ اس کو طلاق دے کر فاغ کردے ،آیندہ کے لئے اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھے
حوالہ جات
مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 11)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه إن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن ولا ينتهب نهبة ذات شرف يرفع الناس إليه أبصارهم فيها حين ينتهبها وهو مؤمن ولا يغل أحدكم حين يغل وهو مؤمن فإياكم إياكم "
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 30)
حرمت عليكم أمهاتكم [النساء: 23]
الی قولہ۰۰۰لما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات، ويدخل بنات الربيبة والربيب. الی قولہ ۰۰۰ (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام
(قوله: ويدخل) أي في قوله وبنت زوجته بنات الربيبة والربيبة وثبت حرمتهن بالإجماع وقوله تعالى {وربائبكم} [النساء: 23] بحر
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲٦جمادی الثانیہ ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


