| 81816 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ ایک شخص جماعت کی نماز میں اس وقت شامل ہوا جب امام صاحب قعدہ اخیرہ میں تھا،جیسے ہی اس نے تکبیر تحریمہ کہی تو اسی وقت امام نے سلام پھیردیا۔تو کیایہ شخص جماعت میں شریک ہوگیاتھایاشریک نہیں ہوسکاِ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں امام کے السلام کے میم کہنے سے پہلے پہلے اگر مسبوق نماز میں شامل ہوجائے، تو اس صورت میں اس کی شمولیت درست ہوگی، لہذا اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی امام اگر سلام پھیردے تو اسے بیٹھنے کی ضرورت نہ ہوگی، تاہم امام کے السلام کے میم کہنے کے بعد اگر مسبوق نے تکبیر تحریمہ کہی ہو تو اس صورت میں جماعت میں شمولیت درست نہ ہوگی، لہذاوہ منفردکی طور پر نماز ادا کرے گا۔
حوالہ جات
(ولفظ السلام) مرتين، فالثاني واجب على الأصح….دون عليكم، وتنقضي قدوة بالاول قبل عليكم على المشهور عندنا. )الدر المختار : /165(
قَوْلُهُ )وَتَنْقَضِي قُدْوَةٌ بِالْأَوَّلِ) أَيْ بِالسَّلَامِ الْأَوَّلِ. قَالَ فِي التَّجْنِيسِ: الْإِمَامُ إذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَالَ السَّلَامُ جَاءَ رَجُلٌ وَاقْتَدَى بِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكُمْ لَا يَصِيرُ دَاخِلًا فِي صَلَاتِهِ لِأَنَّ هَذَا سَلَامٌ»)رد المحتار ط الحلبي: 1/ 468)
محمد دلشاد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد دلشاد بن دادرحمن حسین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


