03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھتیجوں کا مکان میں سے اپناحصہ بیچنے کے بعددوبارہ حصہ کامطالبہ کا حکم
82634جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام محمدبشیر ہے اورمیں اپنے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ کراچی میں ایک مکان میں رہتاتھا اورہمارا کھانا پینا اورکاروبارمشترک تھا، پھر میرے بھائی عبد الرحمن کو کینسرہوا اوروہ فوت ہوگیا، اس وقت اس پرتقریبا21ًلاکھ کاقرضہ تھا، بھائی کے بیٹوں کے ساتھ مشورہ کرکے قرضہ آدھا آدھا ذمہ میں لیاگیااورباقاعدہ اس بات کو تحریرمیں لایاگیا، مگران کے پاس ادائیگی کےلیے رقم نہیں تھی،   اس لیے جس مکان میں ہم رہتے تھے، اس میں اپنا آدھاحصہ  فوت شدہ بھائی کی اولاد نے مجھےفروخت کیا، جس کا ثبوت اسٹاپ پیپر کی شکل میں موجودہے ،اس کے بعد میں نے وہ مکان (جو خستہ حال تھا) گراکراپنے خرچہ پر اس پر بلڈنگ اپنے لیے بنوائی،گاؤں میں بھی ہماری زمین مشترک تھی اوروہ بھی  ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق سے تقسیم کی گئی اوراس کاثبوت بھی اسٹاپ پیپرکی شکل میں موجود ہے ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں میں ایک مشترک زمین کا سرکاری انتقال بدقسمتی سےصرف میرےمرحوم بھائی عبدالرحمن کے نام  تھا،جوتقسیم کے بعد بھیجوں نے میرے نام کرناتھا اوراس  کےلیے تحریربھی لکھی گئی تھی اورانہوں نے اس میں اعتراف بھی کیااوروعدہ کیاکہ ہم انتقال آپ کے نام کرادیں گے، مگر جب انہوں نے کراچی والاپرانامکان دیکھا کہ ذرا اچھابن  گیاہے توان کی نیت خراب ہوگئی اورانہوں نے یہ کہاکہ اس زمین کا انتقال ہم تب کریں گے، جب آپ کراچی والے مکان میں ہمارا حصہ دیں گے، حالانکہ انہوں نے کراچی والے مکان میں اپنا حصہ مجھ پر قرضے کےعوض فروخت کردیاتھا،مگرانہوں  نےضد کی اورثالثوں نے درمیان میں پڑکرمیرے ذمہ میری مرضی کے بغیربیس لاکھ روپے پر ڈال دیے کہ چلوچھوٹے بھتیجے ہیں، آپ ان کو یہ دیدیں، تاکہ یہ زمین کا انتقال کروا دیں ،کئی مرتبہ اتقاق سے زمینیں تقسیم کی گئیں اوراسٹام پیپر بنائیں گئے، مگر یہ ہردفعہ اپنی بات سے پھر جاتے ہیں ،میں  ثالثوں کے کہنے پردل سےدس لاکھ دینے پر توراضی ہوں، مگر اس سے زائددینے پر خدا شاہد ہے میرا دل راضی نہیں ہے،کیونکہ میں گویا اپنے والد کی زمین (جو اب میری  ہے)  اپنےپیسوں پر خرید رہاہوں، مجھے اب درج ذیل باتیں پوچھنی ہیں:

1۔کیا  اگربیس لاکھ میں ان بھتیجوں کو دےدوں تو گناہگارتو نہیں ہوں گا؟کیونکہ گویا میں اپنی ہی زمین اپنے پیسوں پر خرید رہاہوں ؟

2۔ میرے بھتیجوں کےلیے اس طرح ناحق مجھ سےبیس لاکھ  روپے لیناجائزہے؟

3۔ بیس لاکھ روپے کےلیے تین سال طے ہوئے تھے،پھر میری بہنوں نے درمیان میں آکردولاکھ معاف کروائے، لیکن بھتیجے پھر اس سے مکرگئے اوردوباره بیس لاکھ روپےمانگنےلگے، پھر لوگوں نے درمیان  میں پڑ کربیس لاکھ مقررکئے اوروقت بھی تین سال کی بجائے ایک سال کردیا ،سوال یہ ہے کہ اب مجھے تین سال میں دینا ہے یا ایک سال میں اوراٹھارہ دینا ہے یا بیس لاکھ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2۔سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ بھتیجے کراچی والے مکان میں موجود اپنا حصہ قرض کی رقم کے عوض آپ کو بیچ چکے ہیں،اس لیے کراچی والے مکان میں شرعی اعتبارسے بھتیجوں کا حصہ ختم ہو گیا، لہذا اب بھتیجوں کا اس مکان میں سے کسی بھی حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، اور اس مکان کے عوض کوئی رقم ان کو  دینا شرعاً آپ کے ذمہ لازم نہیں۔

باقی جرگہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی پاسداری بھی آپ پر شرعاً لازم نہیں، کیونکہ جب مدعی علیہ مدعی کے حق کا انکار کرے تو شرعا یہ صلح عن الانکار ہوتی ہے اور صلح عن الانکار کے درست ہونے کے لیے مدعی کے دعوی کا شریعت کی روشنی میں درست ہونا ضروری ہوتا ہے، اگر مدعی کا دعوی کسی ناجائز وجہ پر مبنی ہو تو اس کا عوض دینا مدعی علیہ کے ذمہ لازم نہیں ہوتا، لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے بھتیجوں کا دعوی شرعاً درست نہ ہونے کی وجہ سے جرگہ کے فیصلہ کے مطابق بھی آپ پر کسی قسم کی رقم دینا لازم نہیں، البتہ  آپ کا اپنی خوشی اور رضامندی سے تبرع اور احسان کے طور پر اپنے بھتیجوں کو رقم دینا شرعاً جائز ہے یہ اپنی زمین اپنے پیسوں کے عوض خریدنا نہیں ہے، بلکہ یہ درحقیقت آپ کی طرف سے  محض احسان ہو گا،  جس کے عوض آپ کو ان شاء اللہ آخرت میں اجروثواب بھی ملے گا۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (8/ 316) دار الكتب العلمية، بيروت:

 عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال رجل مسلم لأخيه , إلا ما أعطاه بطيب نفسه "

قرة عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 400) دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت:

وفي مجموع النوازل: سئل عن الصلح عن الإنكار بعد دعوى فاسدة هل يصح؟ قال: لا لأن تصحيح الصلح على الإنكار من جانب المدعي أن يجعل ما أخذ عين حقه أو عوضا عنه لا بد أن يكون ثابتا في حقه ليمكن تصحيح الصلح من الذخيرة، فمقتضى قوله وقوع الملك فيه للمدعي وقوله أن يجعل عين حقه أو عوضا عنه أن يكون على قدر مواريثهم.

جامع الفصولين (2/ 36) محمود بن إسرائيل الشهير بابن قاضي سماونه:

الصلح على الإنكار بعد دعوى فاسدة لم يجز ولابد لصحة الصلح على الإنكار من صحة الدعوى إذ المدعي يأخذ ما يأخذه في حق نفسه بدلا عما يدعي أو عين ما يدعي فلا بد من صحة الدعوى حتى يثبت في حقه.

 درر الحكام شرح مجلة الأحكام(43/4، المادة : 1550)دار الجيل:

 الصلح عن الإنكار أو السكوت هو في حق المدعي معاوضة وبعبارة أخرى أن المال الذي أخذه المدعي هو عين حقه أو بدله ولذلك فبدل الصلح حلال له (الزيلعي) ؛ لأن المدعي محق بزعمه في دعواه فالشيء الذي يأخذه عوض عن ماله. أما إذا كان المدعي كاذبا في دعواه فلا يحل له بدل الصلح ديانة.

انظر المادة (97) (عبد الحليم ومجمع الأنهر) ، وفي حق المدعى عليه ليس بمعاوضة بل خلاص من اليمين وقطع للمنازعة؛ لأن في زعم المدعى عليه المنكر أن المدعي غير محق ومبطل في دعواه، وأن إعطاءه العوض له هو للخلاص من اليمين حيث لو لم يعط العوض لبقي النزاع، ولزمه اليمين أن هذه العلة ظاهرة في الإنكار.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

4/رجب المرجب 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب