| 82760 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔مفتی صاحب میرا ایک سوال ہے۔میں ایک اکیڈمی سے کورس کر رہا ہوں اس اکیڈمی کا نام حذیفہ اکیڈمی ہے اس میں چیزوں ( پروڈکٹس ) کو آن لائن بیچنا سکھایا جاتا ہے۔انہوں نے آن لائن چیزوں کو بیچنا تو سکھا دیا لیکن چیزوں کو خرید کر بیچنا اس کے لیے اچھے خاصے پیسوں کا ہونا ضروری ہے۔اس صورت میں حذیفہ اکیڈمی نے اپنے اسٹوڈنٹ کو یہ آفر دی ہے کہ "اسٹوڈنٹس اپنے پیسوں سے مارکیٹنگ کریں ( آن لائن چیزوں کی تشہیر کریں) اور جب کسی چیز کا آرڈر آئے گا تو آرڈر ہم (حذیفہ اکیڈمی) کو بھیجوائیں گے اور گاہک جب پیمنٹ کرے گا تو اس میں سے ہم اپنی چیز کے پیسے کاٹ کرکے اسٹوڈنٹ کو باقی پیسے دے دیں گے"۔ویسے اکیڈمی اعتماد والی ہے۔(یعنی اس صورت میں جو پروڈکٹ کا مالک ہے وہ خود سے یہ آفر دے رہا ہے کہ میری چیز کی تشہیر کر کے اس کے لیے آن لائن گاہک لے کر آؤ ، گاہک کو میں خود سے چیز بھیج دوں گا اور جب گاہک پیسے دے گا تو میں تمہارا پرافٹ تمہیں دے دوں گا) تو کیا اس طرح سے ڈراپ شپنگ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں ذکر کردہ آفر ڈراپ شپنگ کی صورت نہیں بن رہی ہے بلکہ یہ درحقیقت افیلیئیٹ مارکیٹنگ(affiliate marketing ( کی ایک شکل ہے۔ افیلیئیٹ مارکیٹنگ کا طریقہ کاریہ ہوتا ہے کہ کام کرنے والی کمپنی یا ویب سائٹ کسی شخص سے کہتی ہے کہ آپ میری چیزوں کی مارکیٹنگ(تشہیرسازی ) کریں اور میرے لیے کسٹمرز کے آرڈر لائیں ، میں آپ کو ہر آرڈر کے بدلے کمیشن دوں گا۔ مختلف ای کامرس ویب سائٹس میں یہ آپشن ہوتا ہے کہ جہاں مارکیٹنگ کرنے والا ان کی کسی پراڈکٹ کا لنک کاپی کر کے اپنی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر بنے پیج وغیرہ پر لگا لیتا ہے پھر جب کوئی اس لنک پر کلک کرتا ہے تو وہ بیچنے والے کی ویب سائٹ پر چلا جاتا ہے جہاں سے لنک کاپی کیا گیا تھا، اور وہیں آرڈر کرلے گا۔
سوال میں ذکر کردہ صورت کہ جس میں اکیڈمی کے اسٹوڈنٹس کی شرعی حیثیت دلال اور سمسار (بروکر)کی ہے اور اکیڈمی چلانے والوں کی حیثیت بائع( فروخت کنندہ اور سیلر) کی ہے ۔ اس میں اسٹوڈنٹس(بروکرز) اکیڈمی کی پروڈکٹس کی مارکیٹنگ مختلف پلیٹ فارمز مثلا: اپنے فیس بک پیج ، انسٹاگرام اکاؤنٹ یا دیگر ویب سائٹ سے کریں گے ایسی صورت میں اکیڈمی (سیلر) اپنی پروڈکٹس بیچنے کے لیے کسٹمرز کو اسٹوڈنٹس (بروکرز) کے ذریعے تلاش کرے گی اور پھر انہیں اپنی پروڈکٹس بیچے گی ۔ اس عقد (contract) میں مارکیٹنگ کرنے والوں کو آرڈر لانے پر ان کی طے شدہ اجرت (کمیشن) ملے گی اور اکیڈمی کو اس کے پروڈکٹس کی قیمت ملے گی ۔
اس طرح مارکیٹنگ کرکے کمیشن حاصل کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
۱۔ اکیڈمی کی مارکیٹنگ (تشہیرسازی )کے لیے ضروری ہے کہ ان کی پروڈکٹ شرعی اعتبار سے جائز ہوں ،تاکہ شرعاً ناجائز اشیاء کی خریدوفروخت کا ذریعہ بننا لازم نہ آئے ۔ناجائز پروڈکٹ کے کاروبار اور مارکیٹنگ سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور اسٹوڈنٹس پر بھی لازم ہے کہ ایسی پروڈکٹس کی تشہیرسازی (مارکیٹنگ) سے گرہیز کرے۔
۲۔ اکیڈمی کی انتظامیہ پر لازم ہے کہ اپنی پروڈکٹس بیچنے کے لیے گاہک لانے والے اسٹوڈنٹس(بروکرز) کے لیے معلوم اجرت(کمیشن) طے کرے ۔
۳۔ اجرت (کمیشن) متعین رقم ہو یا فیصدی طور پر معلوم اور طے شدہ ہو مثلا پراڈکٹ کی قیمت کےمتعین فیصدکےبقدررکمیشن طےہو جیسے: پانچ سو روپے کی چیز بیچنے پر پانچ فیصد کمیشن ہوگا، اور ہزار روپے کی چیز پر دس فیصد ۔
۴۔ مارکیٹنگ اور پروڈکٹس کی خریدوفروخت میں جھوٹ ، دھوکہ دہی اور جعل سازی نہ ہو، مثلا : ایسا نہ ہو کہ اکیڈمی اپنے اسٹوڈنٹس سے اعلی اور معیاری چیزوں کے ایڈز((ads چلاتی ہو جبکہ کسٹمرز کواسی سابقہ قیمت پر غیر معیاری اور ناقص چیزیں فروخت کرتی ہو۔
ہر پروڈکٹ کے لیے الگ الگ اجرت (کمیشن) مقرر کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف ایک مرتبہ اسٹوڈنٹس کے ساتھ کمیشن طے کرنے کا معاہدہ (ایگریمنٹ) کافی ہوتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 47):
قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 560):
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.َ.... (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 231):
إذا باع الدلال مالا بإذن صاحبه تؤخذ أجرة الدلالة من البائع ولا يعود البائع بشيء من ذلك على المشتري لأنه العاقد حقيقة وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له أما إذا كان الدلال مشى بين البائع والمشتري ووفق بينهما ثم باع صاحب المال ماله ينظر فإن كان مجرى العرف والعادة أن تؤخذ أجرة الدلال جميعها من البائع أخذت منه أو من المشتري أخذت منه أو من الاثنين أخذت منهما أما إذ باع الدلال المال فضولا لا بأمر صاحبه فالبيع المذكور موقوف ويصبح نافذا إذ أجاز صاحب المال وليس للدلال أجرة في ذلك لأنه عمل من غير أمر فيكون متبرعا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
11/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


