03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امتحانی فارم کی تصاویر پرنٹ کرکے دینا
82722جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں جوکہ ہمارے فوٹواسٹیٹ اور پرنٹ کے کاروبارسے متعلق ہے،تعلیمی اداروں اور مدارس کے داخلہ فارم میں جوتصاویر لگائی جاتی ہیں،وہ موبائل یا کیمرہ سے کھینچ کر پرنٹر کے ذریعہ  نکال کر دینے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسکولز یامدارس میں داخلہ، رہائش، اور امتحان کے لیے جو کارڈ یا فارم تیار کیے جاتے ہیں، ان میں بھی چونکہ ہر ہر طالبِ علم کی الگ الگ شناخت ضروری ہے، اس لیے اس ضرورت اور حاجت کی وجہ سے کارڈ اور امتحانی فارم پر تصویر لگانے کی گنجائش ہے،اور اس کےلیے پرنٹ نکال کردے سکتے ہیں۔

حوالہ جات

تکملة فتح الملهم (4/164):

أما اتخاذ الصورة الشمسیة للضرورة و الحاجة کحاجتها فی جواز السفر، وفی التاشیرة، وفی البطاقات الشخصیة، أو فی مواضع یحتاج فیها الی معرفة هویة المرء فینبغی أن یکون مرخصاً فیه؛ فإن الفقهاء رحمهم الله تعالیٰ استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة. قال الإمام محمد ؒ فی السیر الکبیر:"و إن تحققت الحاجة له استعمال السلاح الذی فیه تمثال فلا بأس باستعماله"، و أعقبه السرخسی ؒ فی شرحه 278:2 بقوله: "لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة کما فی تناول المیتة". …و قد ثبت بالأحادیث الصحیحة أن رسول الله صلی الله علیه و سلم أجاز لعائشة رضی الله عنها اللعب بالبنات. و إن الفقهاء - رحمهم الله تعالیٰ -أباحوا للمرأة أن تکشف عن وجهها عند الشهادة.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

10/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب