03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کتاب یاداخلہ فارم میں لگی تصاویر کاپرنٹ نکال کردینا
82723جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 کسی کتاب یا داخلہ فارم پرانسان یاجاندار کی تصویر ہو اس کی فوٹو اسٹیٹ نکال کردینے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شدید ضرورت کے بغیرکسی بھی جاندار کی تصویر بنانا یا اس کا  پرنٹ  نکالناناجائز اورکبیرہ  گناہ ہے، پرنٹ میں تصویرچھاپنا  لازم آتا ہے، جس  کا حکم بھی تصویر بنانے کی طرح ہی ہے،احادیثِ مبارکہ میں  اس کی سخت ممانعت آئی ہے،البتہ ایسی تصاویر جو واضح نہ ہوں یا ان کا سر مٹا دیا گیا ہو ، وہ تصویر کے حکم میں نہیں، اسی طرح کوئی ضرورت کا موقع ہوتو اس کے لیے تصویربنانے کی گنجائش ہے، جیسا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ کی تصاویر۔اس میں پرنٹ کرکے دینے کی بھی گنجائش ہوگی۔

جہاں تک کتابوں میں بنائی گئی تصاویر کا تعلق ہے تو وہ عام طور پر بغیر کسی خاص مجبوری کے بنائی جاتی ہیں، لہذا کتابوں میں بنائی گئی تصاویر کی فوٹو کاپی کرکے دینا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی شخص ایسی کتب کی فوٹو کاپی کرکے اس کی اجرت لے لے تو اجرت میں سے صرف اتنا حصہ ناجائز ہو گا جو ان تصاویر کے عوض آ رہا ہو گا، جس کا محتاط اندازہ لگا کر تعیین کی جا سکتی ہے، اس ناجائز حصے کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے ۔

 اگر کوئی ایسی کتاب ہے، جس میں جاندار کی تصویر بنانا ضروری ہو، جیسے طب کی کتابوں میں بعض اوقات طلباء کو تعلیم دینے کے لیے جاندار کی تصویر، مثلاً: چہرہ کے اعضاء اور دماغ وغیرہ کی وضاحت کے لیے مکمل سر کا  بنانا ضروری ہوتا ہے، ایسی صورت میں آپ کے لیے یہ کتابیں فوٹو کاپی کر کے دینے اور اس پر اجرت لینے  کی گنجائش ہے۔بشرطیکہ ان میں بلاضرورت تصاویر نہ بنائی گئی ہوں۔

حوالہ جات

الاشباہ والنظائر( 1/73):

الضرورات تبيح المحظورات، ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع الأداء من الدين بغير إذنه ودفع الصائل، ولو أدى إلى قتله.

شرح السیر الکبیر(1/1463):

وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله. لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة، كما في تناول الميتة.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

10/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب