| 82238 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
دیت یاصلح میں طے پانے والی رقم کن لوگوں کو دی جائے گی؟اس کے والدین کو دی جائے گی یا اس کے بالغ بہن بھائیوں کو دی جائے گی؟ یا اس کے نابالغ بہن بھائیوں کو دی جائے گی؟[یاد رہے کہطلحہ غیر شادی شدہ تھا اوراسکی موت کے وقت اس کے لواحقین میں درج ذیل لوگ موجود تھے:
- والد-مختار احمد خان
- والدہ- شازیہ بیگم
- بھائی1-حذیفہ مختار-موجودہ عمر22 سال- بالغ
- بھائی 2-خذیمہ مختار- موجودہ عمر6 سال-نابالغ
- بہن 1- ماریہ مختار- موجودہ عمر19سال-بالغ
- بہن2 –مریم مختار-موجودہ عمر13سال-بالغ
- بہن 3- مدیحہ مختار- موجودہ عمر 11سال-نابالغ]۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صلح سے لازم ہونے والا مال مقتول کا ترکہ شمار ہوتا ہے جو مقتول کے ورثہ میں حسب قواعد میراث تقسیم کیا جاتاہے،صورت مسؤلہ طلحہ کے ورثہ صرف اس کے والدین ہیں،بہن بھائیوں کاترکہ میں حصہ نہیں ،والدکوکل ترکہ کا83.333فیصد اوروالدہ کو16.666فیصد ملے گا۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۵/جمادی الثانی ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


