03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقتول کی زندگی میں ہونے والی صلح کاحکم
82239قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

طلحہ کی موت سے پہلے ہی اس کے علاج کے دوران کیے گئے صلح نامے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس صلح سے شرعی سزا  [قصاص/دیت وغیرہ] ختم ہوجائے گی؟

  "ولی الرحمان" کے خاندان کے ساتھ صلح کا معاملہ ہوا جس میں یہ طے پایا کہ اگر اس بیماری میں طلحہ کی موت واقع ہوتی ہے تو طلحہ کے والدعدالت میں "ولی الرحمان" کے حق میں صلح نامہ جمع کروائیں گے اور معافی کا اعلان کریں گے اور اگر عدالت طلحہ کے دیگر ورثا کو طلب کرتی ہے تو ان کی طرف سے بھی معافی کی یقین دہانی  طلحہ کے والد پر  ہو گی  اور وہ کسی طرح کا مزید مطالبہ نہیں کریں گے اور   "ولی الرحمان کا خاندان" اب تک آنے والا میڈیکل کا  خرچہ برداشت کرے گاجو کہ    1800000 [اٹھارہ لاکھ ]تھااور اس کے ساتھ وہ مزید 1500000[پندرہ لاکھ] اس وقت  ادا کرے گا جب  طلحہ کے والد  عدالت میں "ولی الرحمان" کے حق میں صلح نامہ جمع کرواد یں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں مقتول کےوالد سے صلح نامہ میں یہ طے پایاتھاکہ اگراس بیماری میں طلحہ کی موت واقع ہوجاتی ہے توطلحہ کے والدعدالت میں صلح نامہ جمع کرائیں گے اورمعافی کااعلان بھی کریں گے،مزیدرقم کامطالبہ نہیں کریں گے،چونکہ انہوں نے  اپنے حق کو خود ہی سبب وجوب کے بعد ساقط کیاہے، اس لئے سابقہ صلح کی وجہ سے اب قصاص کامطالبہ کرنا یااضافی رقم کامطالبہ کرنادرست نہیں۔

حوالہ جات

فی الفتاوى الهندية (ج 46 / ص 378):

ومن عفا من ورثة المقتول عن القصاص رجل ، أو امرأة ، أو أم أو جدة ، أو من سواهن من النساء ، أو كان المقتول امرأة فعفا زوجها عن القاتل فلا سبيل إلى القصاص كذا في السراج الوهاج .

إن صالح أحد الشركاء من نصيبه على عوض ، أو عفا سقط حق الباقين عن القصاص وكان لهم نصيبهم من الدية ، ولا يجب للعافي شيء من المال ، وإذا كان القصاص بين رجلين فعفا أحدهما فللآخر نصف الدية في مال القاتل في ثلاث سنين كذا في الكافي .

فی المبسوط لشمس الدين السرسخي (ج 15 / ص 15):

ولو صالحه من الجرح أو الجراحة أو الضربة أو القطع أو الشجة أو اليد على شئ ثم برأفالصلح جائز لانه أسقط بهذه الالفاظ حقه بعوض وان مات بطل الصلح في قول أبى حنيفة رحمه الله وعليه القصاص في القياس وفى الاستحسان عليه الدية في ماله وان آل الجرح إلى قتل كانت الدية على عاقلته وعند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله الصلح ماض ولا شئ عليه لانه أسقط الحق الواجب له بالجراحة بالصلح وبعد الموت سبب حقه الجراحة كمابعد البرء وعند أبى حنيفة رحمه الله هو انما أسقط بالصلح قطعا أوشجة أوجبت له قصاصا وبالموت يتبين أن الواجب له القصاص في النفس لاالقطع والشجة فكان هذا اسقاطا لما ليس بحقه فيكون باطلا ولهذا كان عليه القصاص في النفس في القياس ولكنه استحسن فقال يتمكن فيه نوع شبهة من حيث ان أصل القتل كان هو الشجة والقصاص عقوبة تندرئ بالشبهات ولكن المال يثبت مع الشبهات وأصل المسألة في العفو وموضع بيانها كتاب الديات ولو كان صالحه عن ذلك وما يحدث منه كان الصلح ماضيا ان مات أو عاش لان ما يحدث منه السراية يكون هو بهذا اللفظ مسقطا حقه عن النفس بعوض والقصاص في النفس وان كان يجب بعد الموت فانما يجب بسبب الجناية واسقاط الحق بعد وجود سبب الوجوب قبل الوجوب صحيح وكذلك من الجنابة صحيح ان عاش أو مات لان اسم الجناية يعم النفس وما دونها

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۵/جمادی الثانی ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب