| 82899 | نماز کا بیان | سواری پر نماز پڑھنے کا بیان |
سوال
کبھی بس میں سفر کرنا پڑتا ہےتو کیاوقت ختم ہو جانے کے ڈر سے وضوء ہونے کی حالت میں بس کی سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کوشش کرنی چاہیے کہ سفر کے لیے ایسی کمپنی کا انتخاب کیا جائے جو نمازوں کے لیے گاڑی روکتی ہو۔تاہم اگر کبھی ایسا ممکن نہ ہو اور وقت بھی ختم ہو رہا ہو تو اس صورت میں بس میں بیٹھ کر یا جس طرح بھی ممکن ہو، اشارے سے نماز ادا کرلیں اور بعد میں اس نماز کا اعادہ بھی ضرور کرلیں۔
حوالہ جات
وفي الخلاصة وفتاوى قاضي خان وغيرهما: الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة، يتيمم ويصلي بالإيماء، ثم يعيد إذا خرج...فعلم منه أن العذر إن كان من قبل اللہ تعالى ،لا تجب الإعادة،وإن كان من قبل العبد، وجبت الإعادة.(البحر الرائق:1/149
ولا تجوز المكتوبة على الدابة إلا من عذر، هكذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوی الھندیۃ:1/158)
أن الفريضة لا تجوز على الدابة ،فلا يصلي المسافر المكتوبة على الدابة إلا من عذر.(العنایۃ:1/463)
محمد مفاز
دارالافتاء، جامعۃ الرشید،کراچی
15 رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مفاز بن شیرزادہ خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


