| 81297 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
مفتی صاحب عرض ہے کہ میرا قسطوں کا کاروبار ہے،میں موبائل فون،موٹرسائیکل اور دیگر اشیاء قسطوں پر دیتا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ میں نے ایک کسٹمر کو موٹر سائیکل قسطوں پر دی تھی،تین ماہ بعد اس نے کہا کہ میں یہ موٹر سائیکل نقد پر بیچنا چاہتا ہوں اور مزید یہ کہا کہ آپ اس کو بازار لے جاکر مناسب قیمت پر بیچ دو،بازار لے جاکر موٹر سائیکل کی 92000 لگی،میں نے 95000 دے کر اپنے لئے خریدلی۔
کسٹمر نے مجھ سے کہا کہ آپ اس رقم میں سے اپنی قسطوں کے تمام پیسے کاٹ کر بقیہ رقم مجھے بھیج دیں،میں نے اپنی قسطوں کی رقم کاٹ کر باقی رقم اسے بھیج دی،لیکن مجھے کسی نے کہا کہ آپ کے لئے اس موٹر سائیکل کوخریدنا مناسب نہیں ہے،آپ کسی مفتی صاحب سے معلوم کرلیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فروخت کی گئی چیز کو مکمل قیمت وصول کرنے سے پہلے کم قیمت پر واپس خریدناجائز نہیں،البتہ جتنے میں فروخت کی گئی ہو اس قیمت پریا اس سے زیادہ قیمت پر واپس خریدنا جائز ہے،لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے لئے یہ موٹر سائیکل اس قیمت سے کم پر خریدنا جائز نہیں جتنے میں آپ نے اسے فروخت کیا تھا،البتہ اسی سابقہ قیمت یا اس سے زیادہ قیمت پر واپس خریدنا جائز ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (5/ 73):
"(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول. صورته: باع شيئا بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا خلافا للشافعي".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله بالأقل من قدر الثمن الأول) وكالقدر الوصف، كما لو باع بألف سنة فاشتراه به إلى سنتين بحر.
(قوله :قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم. وفي القنية: لو قبض نصف الثمن ثم اشترى النصف بأقل من نصف الثمن لم يجز بحر قلت: وبه يظهر أن إدخال الشارح لفظة كل لا محل له؛ لأنه يفهم أن قبل نقد البعض لا يفسد وهو خلاف الواقع. والحاصل أن نقد كل الثمن شرط لصحة الشراء لا لفساده؛ لأنه يفسد قبل نقد الكل أو البعض. فتأمل.
(قوله :وإن رخص السعر) ؛ لأن تغير السعر غير معتبر في حق الأحكام كما في حق الغاصب وغيره فعاد إليه المبيع كما خرج عن ملكه فيظهر الربح زيلعي .
(قوله :للربا) علة لقوله لم يجز: أي لأن الثمن لم يدخل في ضمان البائع قبل قبضه، فإذا عاد إليه عين ماله بالصفة التي خرج عن ملكه وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقي له عليه فضلا بلا عوض فكان ذلك ربح ما لم يضمن وهو حرام بالنص زيلعي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/صفر 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


