| 82026 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک خاتون جس کی شادی کو تقریباً25سال کا عرصہ ہوگیاہے، اس کا شوہر اپنی بیوی کو 10سال سے ایک لفظ کہتاآرہاہے کہ "میں نے تمہیں طلاق دی،نکل جاؤ میرے گھر سے "طلاق کا لفظ وہ کئی بارگزشتہ 10سالوں میں کہتاآیاہےجس کے گواہ بچے بھی ہیں ،اب سوال یہ ہےکہ
١۔کیا اس عورت کو طلاق ہوگئی ہے یانہیں؟
۲۔ ان دس سالوں میں عورت اورشوہرالگ سوتے رہے ہیں اور الگ الگ کمروں میں رہے ہیں،عورت کا گھراپناہے،شوہرگھر نہیں چھوڑرہاہے،عورت وہاں رہنا چاہتی ہے بچوں کے ساتھ شریعت میں اس کا کیاحکم ہے؟
نوٹ : سائل نے زبانی بذریعہ فون یہ وضاحت کی کہ جب پہلی مرتبہ جھگڑا ہوا تو شوہرنے یہ الفاظ کہے تھے "میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے،آج کے بعد ہمارا تمہارا تعلق ختم ہے،نکل جاؤمیرے گھر سے " اوریہ الفاظ اس نے طلاق کی نیت سے کہے تھے اوراسی مجلس میں جب بات مزید بڑھ گئی تو تقریباًچارمرتبہ یہ الفاظ کہے "میں نے تمہیں طلاق دی"اوراس کے بعد دس سالوں میں وقتافوقتاوہ یہ الفاظ دہراتےرہےاورایک مجلس میں کبھی دس دس مرتبہ بھی کہدیتے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ سائل نے فون پر جووضاحت دی اس کی روسے مسئولہ صورت میں پہلے بائن لفظ ( میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے) سے ایک بائن واقع ہوگئی اودوسرے(آج کے بعد ہمارا تمہارا تعلق ختم ہے) اورتیسرے بائن لفظ (نکل جاؤمیرے گھر سے)سے طلاق نہیں ہوئی کیونکہ بائن بائن کولاحق نہیں ہوتی مگرجب اسی مجلس میں شوہر نے صریح کے الفاظ(میں نے تمہیں طلاق دی) چارمرتبہ کہے تو صریح چونکہ صریح اور بائن کو عدت میں لاحق ہوتی ہے لہذا وہ پہلی طلاق کے ملحق ہوگئی اورطلاق چونکہ تین سے زائدنہیں ہوتی ،لہذاپہلی بائن لفظ اورصریح کے پہلے دو صریح لفظوں سے کل تین طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ، اب حلالہ کے بغیر دونوں میں نہ نکاح ہوسکتا اورنہ ہی رجوع۔
۲۔ جب مسئولہ صورت میں تین طلا قیں ہوچکی ہیں اوردوبارہ نکاح نہیں ہوسکتااورنہ ہی رجوع ہوسکتاہے تو شوہرکا اب اس گھر میں رہنا جائزنہیں ہے،ویسےبھی یہ گھرجب بیوی کی ملکیت ہےاوروہ رہنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے تو شوہر پرلازم ہے کہ مطلقہ بیوی کا گھر خالی کرکےوہاں سےچلاجائے۔
بچہ اگرلڑکا ہوتو سات سال تک اورلڑکی ہو تو راجح قول کے مطابق بالغ ہونےتک ماں کے پاس رہے گی اوران کا نفقہ والد پر ہوگا اوراس کےبعد والد بچوں کے وصول کرسکے گا۔
حوالہ جات
وفی الفتاوی العالمگیریة:
" وفي الفتاوى: لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع، كذا في العتابية".
وفی الهندية (1/ 375)
و لو قال لها: لا نكاح بيني و بينك أو قال: لم يبق بيني و بينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى."
فتاویٰ محمودیہ (ج:۱۲، ص:۵۶۴):
’’اگر ہندہ کو اس کے شوہر نے بہ نیتِ طلاق یہ کہا کہ ’’جا، آج سے میرا تیرا تعلق ختم‘‘ جیسا کہ مہر بھیجنے کے ذکر سے بھی معلوم ہوتا ہے تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔
وفی فتاوی دارالعلوم دبند علی الشبکة:
اگر شوہر نے بیوی سے لڑائی کے دوران کہا کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے،تو کیا اس سے طلاق پڑتی ہے؟
الجواب :دورانِ لڑائی اگر طلاق کا بھی ذکر تذکرہ تھا تو مذکورہ جملہ سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی، اور اگر طلاق کا ذکر نہیں تھا یونہی لڑائی تھی تو طلاق کی نیت سے اگر کہا ہے، تو بھی طلاق بائنہ واقع ہونے کا حکم ہے، ورنہ نہیں۔فتوی: 627=524/د
المبسوط للسرخسي (6/ 75)
إذا قال لها أنت طالق يقع به تطليقة رجعية نوى أو لم ينو لأن هذا اللفظ صريح في الطلاق عند النكاح لغلبة الاستعمال فلا حاجة إلى النية فيه....وكذلك ما يكون مشتقا من لفظ الطلاق كقوله قد طلقتك أو أنت مطلقة.
قال العلامة الحصکفی:
الصریح یلحق الصریح ویلحق البائن والبائن یلحق الصریح۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۵۰۸،۵۱۰ مطلب الصریح یلحق الصریح والبائن.
[البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }
وفی احکام القرآن للشيخ ظفر احمد العثماني(رح):(۱/۵۰4)
﴿قوله تعالي: فان طلقها فلا تحل له حتي تنکح زوجا غيره﴾ اي انه اذا طلق الرجل امرأته طلقة ثالثة بعد ما ارسل عليها الطلاق مرتين فانها تحرم عليه حتي تنکح زوجا غيره اي حتي يطأها زوج اخر في نکاح صحيح.
فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك.قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن فأجازذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم.
وفي الهداية (٢/٤٣٨)
وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد...... والنفقة على الأب.....والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغيرحتى يستغني......والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 566)
(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
18/5/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


