03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ساس، سسر، نند اور دیور کے حقوق اور احکام
82944نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا شوہر کے والدین اور بہن بھائی بیوی کے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی طرح ہیں؟ اخلاقا تو ساس سسر ماں باپ کی طرح ہی ہیں، مگر ان میں اور ماں باپ میں فرق ہے یا نہیں؟ ان کی خدمت اخلاقا تو کرسکتے ہیں، لیکن کیا فرض یا واجب بھی ہے؟ شرعا ساس، سسر، دیور اور نند کے کیا حقوق ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کے والدین کی خدمت شرعا اس کی بیوی کے ذمے واجب نہیں، اس لیے شوہر بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا۔ لیکن شوہر کے والدین اور عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے ان کی خدمت کرنا، بیوی کی اخلاقی ذمہ داری اور سعادت مندی ہے۔ نیز میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ اس میں خالص ضوابط اور قانونی بنیادوں پر چلنا مشکل ہوتا ہے، میاں بیوی کو ضابطوں سے ہٹ کر بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے؛ تاکہ زندگی خوش گوار گزرے۔ اگر بیوی اپنے شوہر کے والدین کی خدمت بالکل نہیں کرے گی تو یہ شوہر کے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے؛ اس لیے ایک دوسرے کو مشکلات سے بچانے اور بزرگ ہونے کی بناء پر بیوی کو چاہیے کہ بقدرِ استطاعت اپنی ساس اور سسر کی خدمت کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ ساس اور سسر کو بھی چاہیے کہ بہو سے اتنی اور ایسی خدمت نہ لیں جو اس کے بس میں نہ ہو یا اس کے لیے مشکل ہو، اور جب وہ ان کی خدمت کرے تو اس کا شکریہ ادا کریں ۔

دیور اور نند کی خدمت واجب نہیں، بلکہ دیور سے پردہ واجب ہے، اس لیے اس کی ایسی خدمت جائز نہیں جس میں پردہ کے احکام کی خلاف ورزی ہو۔ البتہ ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا اور حسبِ استطاعت کام کاج میں تعاون کرنا حسنِ اخلاق کا تقاضا اور گھر کے ماحول کو اچھا رکھنے کا ذریعہ ہے، لیکن نند اور دیور بھابھی کو اپنی خدمت اور کام پر مجبور نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

المستدرك - الهندية (1/ 62):

حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن بن أبي نجيح عن عبد الله بن عامر عن عبد الله بن عمر ويبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال: ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا.

هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتج بعبد الله بن عامر اليحصبي، ولم يخرجاه، وشاهده الحديث المعروف من حديث محمد بن إسحاق وغيره عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده……. الخ

مرقاة المفاتيح (14/ 260):

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: "ليس منا" أي من خواصنا، وهو كناية عن التبرئة، "من لم يرحم صغيرنا ويوقر" بالجزم، وفي نسخة "ولم يوقر" أي لم يعظم كبيرنا، وهو شامل للشاب والشيخ……. الخ

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     22/رجب المرجب/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب