| 81445 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک گھرجوکہ والدنے والدہ کے نام کیاتھا اورقبضہ بھی دیدیاتھا، والدکاانتقال ہوگیا اوراب والدہ کابھی انتقال ہوگیااوردو بھائیوں کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا،اب آیا باقی ورثہ کے ساتھ ان دو مرحوم بھائیوں کا حصہ بھی ہوگا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں والدہ کی زندگی میں وفات پانے والے دونوں بھائی والدہ کی میراث سے محروم رہیں گےاورمیراث صرف ان ورثہ کو ملے گی جو والدہ کی وفات کے وقت زندہ تھے ۔
حوالہ جات
’’وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن‘‘. (تکملة فتح الملهم ۲/۱۸)
’’ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء والأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین … وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیُتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت‘‘. (تکملة فتح الملهم ۲/۱۷-۱۸)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/3/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


