| 83169 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
مہمند كے پہاڑوں ميں ماربل والے پتھروں كی كانیں ہوا كرتی ہيں جنہيں لوگ "درنگ" كہتے ہيں، ایک درنگ تقریبا چالیس گز کا ہوتا ہے۔ فاٹا انضمام سے پہلے ہر گاؤں اور قبیلے کے اپنے اپنے پہاڑ تھے جن سے وہ ماربل نکالتے تھے اور حکومت کو اس کا ایک متعین حصہ بطورِ ٹیکس دیتے تھے۔ پھر خیبر پختون خواہ کی حکومت نے 2019ء میں مائنز اینڈ منرل گورننس ایکٹ 2017ء میں ترمیم کرتے ہوئے ایک شق کا اضافہ کیا جس کے مطابق قبائلی اضلاع کی تمام معدنیات حکومت کی ملکیت ہوں گی اور انہیں نکالنے کا ٹھیکہ حکومت دے گی، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت نے قبائلی اضلاع کے لوگوں کو یہ خصوصی مراعات دی کہ دس سال تک وہ حسبِ سابق ان معدنیات کے ٹھیکے دینے کے مجاز ہیں، دس سال کے بعد اس پر مکمل حق حکومت کا ہوگا۔ فی الحال قانونی پوزیشن یہ ہے، دس سال بعد اگر قانون تبدیل نہیں ہوتا تو اس ترمیم کے مطابق ٹھیکے مقامی لوگ نہیں دے سکیں گے، اور اگر قانون تبدیل ہوا تو پھر نئے قانون کے مطابق بات ہوگی۔ اس سے متعلق درجِ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
(1)۔۔۔ ماربل کے ان کانوں کی خريد وفروخت كا ایک طريقہ یہ ہے كہ ٹھیکہ دار گاؤں والوں سے "درنگ" کی خریداری کی خواہش ظاہر کرتا ہے، اگر گاؤں والے اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ ایگریمنٹ کرتے ہیں کہ مثلا آپ دس سال تک یہاں سے ماربل نکال سکتے ہیں۔ گاؤں والے ٹھیکہ دار کے ساتھ یہ ایگریمنٹ کرنے کی وجہ سے اس سے کچھ مخصوص رقم مثلا لاکھ، دو لاکھ، دس لاکھ لیتے ہیں، یہ رقم صرف اس کے ساتھ ایگریمنٹ کرنے کی لی جاتی ہے۔ پھر جب ٹھیکہ دار وہاں سے ماربل نکالتا ہے تو پھاٹک پر گاؤں والوں کا منشی بیٹھا ہوتا ہے، ٹھیکہ دار جب ٹرک لے کر آتا ہے تو منشی اس ٹرک میں موجود ماربل کو دیکھ کر اس کی قیمت لگاتا ہے، کسی ٹرک کی قیمت چار ہزار، کسی کی پانچ ہزار، اس طرح ماربل کے حساب سے ہر ٹرک کی الگ الگ قیمت لگائی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں یہ رقم فی ٹرک متعین ہوتی ہے، مثلا فی ٹرک چار ہزار روپے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گاؤں والے ٹھیکہ دار سے شروع میں ہی یکمشت رقم لے لیتے ہیں مثلا پچاس لاکھ یا کروڑ، پھر مقررہ مدت مثلا دس سال تک وہ جتنا ماربل لے جانا چاہے، لے جاتا ہے، اس صورت میں ہر ٹرک پر الگ رقم نہیں لی جاتی۔ ماربل نکالنے اور لے جانے پر آنے والے ہر قسم کے اخراجات، مثلا راستہ ہموار کرنے کا خرچہ، مشینری وغیرہ سب کچھ ٹھیکہ دار خود کرتا ہے، گاؤں والوں کا ان اخراجات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حکومت کا اس معاملے سے یہ تعلق ہوتا ہے کہ جب گاؤں والے کسی ٹھیکہ دار سے معاملہ کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں تو فریقین تحصیل دار کے پاس جاکر اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں اور کام شروع کردیتے ہیں۔ ٹھیکہ دار پھر ہر ٹرک پر حکومت کو ٹیکس دیتا ہے۔ کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو اس کا متبادل کیا ہے؟
(2)۔۔۔ کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ ایک ٹھیکہ دار گاؤں والوں سے مذکورہ تفصیل کے مطابق معاملہ کرلیتاہے، لیکن مشینری نہ ہونے یا کسی بھی وجہ سے خود ماربل نہیں نکالتا تو وہ مارکیٹ میں کسی اور ٹھیکہ دار کو وہ "درنگ" بیچتا ہے اور اس کے بدلے میں اس سے متعین رقم مثلا تیس لاکھ، چالیس لاکھ لے لیتا ہے، یہ رقم ابتدا میں اس کو درنگ دینے کے بدلے لے لیتا ہے، اس کے ساتھ ہی پہلا ٹھیکہ دار اس دوسرے ٹھیکہ دار سے کہتا ہے کہ آپ جب وہاں سے ماربل لے جائیں گے تو ہر ٹرک پر مجھے اتنے روپے مثلا ہزار یا پانچ سو روپیہ بھی دینا ہوگا۔ لہٰذا یہ دوسرا ٹھیکہ دار جب وہاں سے ماربل کا ٹرک لے کر آتا ہے تو ایک تو گاؤں والے کے منشی کو فی ٹرک رقم دیتا ہے، ایک حکومت کو ٹیکس دیتا ہے، اور ایک پہلے والے ٹھیکہ دار کو مقررہ رقم دیتا ہے۔ کیا یہ معاملہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو اس کا متبادل کیا ہے؟
(3)۔۔۔ گاؤں والوں کو جو رقم ملتی ہے ، اس کی تقسیم کے مختلف طریقے رائج ہیں، بعض گاؤں والے اس پوری آمدنی کو شادی شدہ افراد کے اعتبار سے تقسیم کرتے ہیں، یعنی ہر شادی شدہ آدمی کو ایک حصہ دیا جاتا ہے، جبکہ بعض گاؤں میں فی گھرانہ تقسیم ہوتی ہے، یعنی ایک گھر کو ایک حصہ دیا جاتا ہے، چاہے اس میں ایک شادی شدہ بندہ ہو، یا ایک سے زیادہ شادی شدہ افراد ہوں۔ کیا تقسیم کے یہ طریقے ٹھیک ہیں؟ اگر نہیں تو تقسیم کس طرح ہونی چاہیے؟
وضاحت: مختلف علاقوں اور قبائل میں پہاڑوں کی تقسیم کسی زمانے میں ہوئی تھی، اب اسی کے مطابق ہر علاقے اور قبیلے کے اپنے اپنے پہاڑ ہیں۔ ان پہاڑوں کے ساتھ اس علاقے اور قبیلہ والوں کی دیگر ضروریات بھی متعلق ہوتی ہیں، مثلا ایندھن کے لیے لکڑی لانا اور جانور چرانا۔ گاؤں کا ہر بندہ اپنے گاؤں کے پہاڑ کے ہر حصے سے لکڑیاں لاسکتا ہے اور اس میں جانور چراسکتا ہے۔ یہ پہاڑ گاؤں سے متصل اوپر ہوتے ہیں، بعض پہاڑ ایسے ہوتے ہیں جو آگے جاکر دوسرے گاؤں سے لگتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسے پہاڑ جو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہوں، بلکہ اس سے کسی گاؤں اور قوم کی ضروریات متعلق ہوں وہ اس گاؤں اور قوم کے درمیان مشترک ہوں گے اور ان کی ضروریات کے لیے اسی طرح باقی رکھے جائیں گے، ان سے متعلقہ علاقے کے تمام لوگ اس سے نفع اٹھانے کے برابر حق دار ہوں گے، کوئی شخص اس پہاڑ کی زمین کو بیچ نہیں سکتا، نہ ہی اپنے لیے آباد کرسکتا ہے۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب حکومتی قانون سازی کے ذریعے ان پہاڑوں میں پائے جانے والے معادن (ماربل وغیرہ) کو حکومت کی ملکیت قرار دیا گیا ہے تو اب یہ معادن حکومت کی ملکیت ہوں گے؛ لأن حکم الحاکم رافع للخلاف.
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درجِ ذیل ہیں:
(1)۔۔۔ جب یہ معدنیات کی ملکیت حکومت ہے، گاؤں والوں کی نہیں، ان کو صرف اِن کا ٹھیکہ دینے تو گاؤں والے ٹھیکیدار سے جو معاملہ کرتے ہیں، اس کی حیثیت ماربل کی خرید و فروخت کی نہیں ہوگی، بلکہ یہ ماربل پر اپنے ترجیحی حق سے دست برداری ہوگی، گویا حکومتی اختیار کے تحت وہ خود اس ماربل سے استفادہ کرسکتے ہیں، ان کو نکال کر بیچ سکتے ہیں، لیکن وہ اپنے اس حق سے دست بردار ہو کر یہ حق ٹھیکیدار کو دیتے ہیں۔ اس حق سے دستبرداری کا معاوضہ متعین کرنے کے دو طریقے سوال میں مذکور ہیں:
- کچھ رقم ابتداء میں لم سم شکل میں لی جاتی ہے، جبکہ باقی فی ٹرک کے حساب سے، پھر فی ٹرک رقم وصول کرتے ہوئے چاہے ہر ٹرک کے حساب سے الگ الگ رقم وصول کی جائے یا فی ٹرک ایک رقم متعین کی جائے اور تمام ٹرکوں سے وہی رقم لی جائے۔
- شروع ہی میں ٹھیکیدار سے ایک متعینہ رقم وصول کرلی جاتی ہے اور بس۔
پہلا طریقہ درست نہیں؛ کیونکہ اس میں حق سے دستبرداری کے وقت اس کا معاوضہ مجہول ہوتا ہے جو کہ جائز نہیں۔ دوسرا طریقہ درست ہے؛ اس میں یہ خرابی نہیں۔ پہلے طریقے کے مطابق معاملہ کرنے والوں کو چاہیے کہ انہیں معاہدہ کی مکمل مدت میں ٹرکوں کے حساب سے جتنی رقم ملنے کی توقع ہو، اس کا اندازہ لگائیں اور اس کو ابتدا میں ملنے والی رقم کے ساتھ جمع کر کے اس مجموعے کو ایک ہی دفعہ بطورِ معاوضہ مقرر کرلے، وصولی پھر اقساط کی شکل میں بھی درست ہے، بشرطیکہ ان کی ادائیگی کی مدت معلوم ہو۔
(2)۔۔۔ جس ٹھیکیدار نے گاؤں والوں کے ساتھ معاہدہ کر کے ان کے پہاڑوں سے ماربل نکالنے کا حق حاصل کیا ہو، اگر وہ کسی دوسرے ٹھیکیدار کے حق میں دستبردار ہونا چاہے تو دستبرداری کے وقت اس کا معاضہ ایک ہی دفعہ لے سکتا ہے، بعد میں ہر ٹرک پر مزید رقم لینا جائز نہیں۔ لہٰذا اسے معاہدہ کی طے شدہ مدت میں فی ٹرک کے حساب سے جتنی رقم ملنے کی امید ہے، اس کا ایک محتاط اندازہ لگائے اور اسے ابتداء میں ملنے والی رقم میں شامل کر کے دستبرداری کا مجموعی معاوضہ یک بارگی متعین کرلے، وصولی پھر اسی وقت یک مشت بھی کرسکتے ہیں اور معلوم اقساط کی صورت میں بھی۔
(3)۔۔۔ سوال میں ذکر کردہ وضاحت کی روشنی میں ان پہاڑوں سے متعلقہ گاؤں اور قوم کی ضروریات اور حاجات متعلق ہیں، اس لیے جو پہاڑ جس گاؤں اور قوم کی ضروریات کے لیے ہے، اس پر پورے گاؤں اور پوری قوم کا حق ہے، لہٰذا ان پہاڑوں سے نکلنے والے ماربل کی آمدنی میں بھی سب کا حصہ ہوگا، اس آمدنی کو صرف شادی شدہ افراد یا گھرانے کے حساب سے تقسیم کرنا درست نہیں، بلکہ تمام مرد و زن کو اس میں برابر برابر حصہ دیا جائے گا۔ نیز یہ رقم ان علاقوں میں روزگار اور آمدن کے ذرائع کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دی جاتی ہے، اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہر گھر میں موجود افراد کے لحاظ سے تقسیم ہو؛ تاکہ انہیں اپنی ضروریات اور حاجات پوری کرنے میں آسانی ہو، یہ بات انصاف کے خلاف ہے کہ مثلا دس افراد پر مشتمل گھرانے اور دو افراد پر مشتمل گھرانے کو ایک ہی جتنا حصہ دیا جائے۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 244):
مادة 1271: الأراضي القريبة من العمران تترك للأهالي مرعى ومحتصدا ومحتطبا، ويقال لها "الأراضي المتروكة".
رد المحتار (2/ 319-321):
قال ح: واعلم أن الأرض على أربعة أقسام: مباحة ومملوكة لجميع المسلمين ومملوكة لمعين ووقف……ثم إن الخمس في المباحة لبيت المال، والباقي للواجد. وأما الثاني وهو المملوكة لغير معين فلم أر حكمه، والذي يظهر لي أن الكل لبيت المال، أما الخمس فظاهر وأما الباقي فلوجود المالك، وهو جميع المسلمين، فيأخذه وكيلهم وهو السلطان. وأما الثالث وهو المملوكة لمعين فالخمس فيه لبيت المال والباقي للمالك. وأما الرابع وهو الوقف فالخمس فيه لبيت المال أيضا كما نقله الحموي عن البرجندي، ولم يعلم من عبارته حكم باقيه، والذي يظهر
لي أنه للواجد كما في الأول؛ لعدم المالك، فليحرر اه…… المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها، وإذا ملكها المختط له بتمليك الإمام ملكها بجميع أجزائها، فتنتقل عنه إلى غيره بتوابعها أيضا.
شرح مختصر خليل - الفقه المالکي(2/ 207):
وحكمه للإمام ( ش ) الضمير في قوله "وحكمه" يرجع للمعدن عينا أو غيرها، أي وحكم المعدن لا بقيد العين للإمام، فله أن يقطعه لمن يعمل فيه بوجه الاجتهاد حياة المقطع أو مدة من الزمان، أو يوكل من يعمل فيه للمسلمين.
الجامع لمسائل المدونة - الفقه المالکي (4/ 150):
وتلخيص هذا الاختلاف: أن المعادن على ثلاثة أقسام: ما ظهر منها في أرض العرب أو البربر أو العنوه فالإمام يليها ويقطعها لمن رأى، ولا خلاف في ذلك، وما ظهر منها في أرض الصلح، فقيل: الأمر فيه لأهل الصلح، وقيل للإمام، وما ظهر منها في أرض رجل، فقيل أمره للرجل، وقيل أمره للإمام.
التاج والإكليل - الفقه المالکي (2/ 334):
( وحكمه للإمام ولو بأرض معين إلا مملوكة لمصالح فله ) من المدونة قال مالك : وللإمام إقطاع المعادن لمن رأى ويأخذ منها الزكاة وكذلك ما ظهر من المعدن في أرض العرب وأرض البربر فالإمام يليها ويقطعها لمن أرى ويأخذ زكاتها وكذلك ما ظهر منها بأرض العنوة فهو للإمام وأما ما ظهر منها في أرض الصلح فهو لأهل الصلح لهم أن يمنعوا الناس أن يعملوا فيها ابن رشد : مذهب المدونة أن المعادن ليست تبعا للأرض التي هي فيها مملوكة كانت أو غير مملوكة إلا أن تكون في أرض قوم صالحوا عليها فإن أسلموا رجع أمرها إلى الإمام ووجهه أن المعادن التي في جوف الأرض أقدم من ملك المالكين لها فلم يحصل ذلك ملكا لهم بملك الأرض فصار ما فيها بمنزلة ما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب قال ابن القاسم : وكذلك معادن الزرنيخ والكحل والنحاس والرصاص هي كمعادن الذهب والفضة للسلطان أن يقطعها لمن يعمل فيها.
رد المحتار (4/ 520):
و حاصله أن ثبوت حق الشفعة للشفيع وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك، فلا يستحق شيئا. أما حق الموصى له بالخدمة فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة، فيكون ثابتا له أصالة، فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق حيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالةً، لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه. ولا يخفى أن صاحب الوظيفة ثبت له الحق فيه بتقرير القاضي على وجه الأصالة لا على وجه رفع الضرر، فإلحاقها بحق الموصى له بالخدمة وحق القصاص وما بعده أولى من إلحاقها بحق الشفعة والقسم، وهذا كلام وجيه لا يخفى على نبيه.
فقه البیوع (1/270):
110- حق الأسبقیة: والثاني: حق الأسبقیة، وهو عبارة عن حق التملك أو الاختصاص الذي یحصل للإنسان بسبب سبق یده إلی شیئ مباح، مثل حق التملك بإحیاء الأرض. وقد أجمع القفهاء علی أن الأرض الموات لایملکها الإنسان إلا بالإحیاء. وأما التحجیر فلایثبت به الملك، وإنما یثبت به الاختصاص، وحق التملك بالإحیاء. فمن حجر أرضا، فإنه أحق بإحیاءها. واختلفت أقوال الفقهاء الشافعیة والحنابلة في جواز بیع هذا الحق، والمختار في المذهبین عدم الجواز، ولکن ذکر البهوتي من الحنابلةأن الاعتیاض عنه وإن کان لایجوز بطریق البیع، ولکنه یجوز بطریق التنازل والصلح عن الحق. وکذلك من سبق إلی مکان في المسجد فهو أحق بذلك المکان، وله أن یؤثر به غیره، ولکن لایجوز له أن یبیع هذا الحق، نعم ! ذکر البهوتي أنه یجوز له التنازل عنه بعوض. أما الحنفیة والمالکیة فلم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم صراحة، وقیاس قوله أنه لایجوز عندهم أیضا.
بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/97-110):
2- حق الأسبقیة:…………. ولم أر في کتب الحنفیة والمالکیة من تعرض لمسألة بیع حق الأسبقیة، وقد ذکروا أن التحجیر یثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن ذکروا أن التحجیر تثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن لم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم، وقیاس قولهم أنه لایجوز عندهم أیضا، إلا أن یکون بطریق التنازل. فخلاصة الحکم في بیع حق الأسبقیة أنه وإن کان بعض الفقهاء یجوزون هذا البیع، ولکن معظمهم علی عدم جوازه، ولکن یجوز عندهم النزول عنه بمال علی وجه الصلح، والله سبحانه أعلم…………. إن للعرف مجالًا في إدراج بعض الحقوق في، فإن المالیة تثبت بتمول الناس، کما یقول ابن عابدین رحمه الله تعالیٰ.
فقه البیوع (1/270):
111- حق إنشاء العقد أو إبقاءه: والثالث: حق إنشاٰء العقد أوإبقاءه، والمراد بذلك حق إنشاء عقد مع آخر أو إبقاءه، مثل خلو الدور والحوانیت، فإنه حق لإنشاء عقد الإجارة مع صاحب البقعة أو إبقاءه في المستقبل، ومثل حق الوظائف السلطانیة أو الوقفیة، فإنه حق لإبقاء عقد الإجارة مع الحکومة أو ناظر الوقف. وقد اتفقت المذاهب الفقهیة علی أنه لایجوز بیع هذا الحق، ولکن کثیرا من الفقهاء الحنفیة والشافعیة والحنابلة جوزوا التنازل عنها بعوض.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


