| 83790 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
انایہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظِ انایہ ’’الف‘‘کے ساتھ عربی لغت کی کتابوں میں مذکور نہیں،البتہ "عنایہ" عربی زبان کا لفظ ہے، اور عربی لغت میں یہ لفظ ’’ع‘‘ کے ساتھ "عنایہ" ہی ملتا ہے، اور 'ع' کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، "عنایہ " کےمعنی: توجہ، التفات، وغیرہ ،لہذااگر ’’ع‘‘سے عنایہ نام رکھاجائے تو جائز ہے۔
حوالہ جات
لسان العرب (15/ 104):
ابْنُ الأَعرابي: عَنَيْت بأَمره عِناية وعُنِيّاً وعَناني أَمره سواءٌ فِي الْمَعْنَى؛ وَمِنْهُ قَوْلُهُمْ:
إِيَّاكِ أَعْنِي؛ واسْمَعي يَا جارَهْ
المصباح المنير في غريب الشرح الكبير (2/ 434):
وَاعْتَنَيْتُ بِأَمْرِهِ اهْتَمَمْتُ وَاحْتَفَلْتُ وَعَنَيْتُ بِهِ أَعْنِي مِنْ بَابِ رَمَى أَيْضًا عِنَايَةً كَذَلِكَ.
عبدالعلی
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
06/ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


