| 83756 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
انٹرنیٹ پر متعدد فتوی موجود ہیں کہ میڈیکل اسٹور کھولنے کا لائسنس کرائے پر دینا اور اس کےپیسے وصول کرنا ناجائز ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا درست ہوگا کہ لائسنس کسی میڈیکل اسٹور والے کو دیا جائے اور اس کے ساتھ یہ معاہدہ کیا جائے کہ میں دن میں دو یا تین گھنٹے کام کروں گا اور فی گھنٹہ کے اعتبار سے کچھ رقم کا تعین کر لے۔اب لائسنس دینے والا شخص مہینے میں پندرہ دن آئے یا بیس یا پچیس دن اور صرف انہی دنوں یا گھنٹوں کے پیسے وصول کرے جتنا اس نے کام کیا ہو، یعنی 15 دن گیا ہے تو 30 گھنٹوں کےحساب سے یا 25 دن گیا ہو تو 50 گھنٹوں کے پیسے وصول کرے ، تو کیا یہ کمائی اس کے لیے جائز اور حلال ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حکومت وقت کی اجازت کے بغیر میڈیکل اسٹور کھولنا شرعا اور قانونا جرم ہے۔ لائسنس جاری کرنے اور اسٹور کھولنےکی اجازت کا مکمل اختیار حکومت کےپاس ہے ، لائسنس کا مطلب یہ ہوتا ہےکہ لائسنس والا میڈیکل اسٹور چلانےکا اہل ہے۔ اس جاری کردہ لائسنس کوصرف وہی شخص استعمال کرسکتا ہےجس کو جاری کیا گیا ہے، آگے کسی دوسرے کو دینےکی قانونا اور شرعا اجازت نہیں ، چاہے پیسوں کےعوض ہویا بلاعوض ،کیونکہ اس میں جھوٹ اور قانون کی خلاف ورزی لازم آرہی ہے،مزید یہ کہ لائسنس مال نہ ہونے کی وجہ سے شرعا اجارہ پر دینے کا قابل نہیں۔
تاہم قانونا اس کی گنجائش ہےکہ میڈیکل اسٹور کا مالک کسی لائسنس و الےشخص کو اجرت دےکر اس کی خدمات حاصل کرے۔ لہذا صور ت مسولہ میں جتنا وقت لائسنس والاشخص کا م کرتا ہےوہ شرعا و قانونا جائز ہے ، اس کی اجرت بھی جائز ہے۔ اس کےبعد اگر میڈیکل اسٹور والا کسی اور لائسنس والےسے کام لیتا ہےتو وہ بھی ٹھیک ہے ،اگر اسی لائسنس کو استعمال کرتا ہےتو غلط ہے۔مزید یہ کہ قانونی لحاظ سے لائسنس والا ایک لائسنس کی بنیاد پر صرف ایک جگہ ہی کام کرسکتاہے ،لہذا صورت مسولہ میں مذکورہ شخص کا اسی لائسنس کی بنیاد پر اس دوکان کےعلاوہ کسی دوسری جگہ کام شرعا جائز نہیں ،البتہ کام کرنے پر کمائی اور اجرت حلال ہوگی۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (النساء :(59:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔
صحيح البخاري (4 / 50):
«من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني، وإنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به، فإن أمر بتقوى الله وعدل، فإن له بذلك أجرا وإن قال بغيره فإن عليه منه»۔
صحيح البخاري (1/ 16):
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 243):
قال: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل ۔
Procedure Rules for Drug Sale License :
16. Forms of licenses to sell drugs.– The licensing authority shall issue a license
of a pharmacy in Form 9 and a license of a medical store in Form 10
17. Sale at more than one place.– (1) If a person desires to sell, store, exhibit for
sale or distribute drugs at more than one place, he shall apply for a separate license
in respect of each place
20. Conditions of licenses.–
(b) a person who is registered under section 24(1)(a) of the Pharmacy Act 1967
(XI of 1967) shall personally supervise the sale of drugs under license in Form 9
(pharmacy) and a person who is registered under section 24(1) of the said Act shall
personally supervise sale of drugs under license in Form 10 (medical store);
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
05/ذی قعدہ /1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


