03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علیحدگی کے بعد سامان وصول کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا
83627طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیا ہم اپنی بہن کےجہیز کا سامان  اس کے سسرال والوں سے وصول کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں؟ کیونکہ اس کے بغیر وہ ہمیں سامان دینے میں تنگ کریں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جہیز کا سامان عورت کا حق ہے، لہذا سسرال والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کی بہن کے جہیز کا مکمل سامان واپس کریں، اگر وہ سامان دینے میں پریشان کریں تو آپ حضرات اپنا حق وصول کرنے کے لیے  عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (8/ 316) دار الكتب العلمية، بيروت:

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال رجل مسلم لأخيه , إلا ما أعطاه بطيب نفسه " لفظ حديث التيمي وفي رواية الرقاشي: " لا يحل مال امرئ  يعني مسلما , إلا بطيب من نفسه "

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

13/شوال 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب