03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کے بعد بچی کس کے پاس رہے گی ؟
83856طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و شرع متین اس مسئلہ سے متعلق کہ میاں اور بیوی (محمد فیصل اور ثویبہ اسلم ) کے درمیان چھوٹی سی تلخ کلامی ہوٰئی اور اس کے بعد بیوی اور 6 ماہ کی بچی (ثنا) کو بیوی کےوالد اپنے ساتھ گھر لے گئے ، شوہر اور اس کے گھر والوں کے بار بار منانے کے باوجود اس کی بیوی خلع پر ضد کر رہی ہے ،لیکن شوہر بیوی کو خلع نہیں دینا چاہتا ،شوہر کا کہنا ہے کہ اگر خلع چاہیئے تو مجھے میری 6 ماہ کی بچی واپس دے دو ،جوکہ ڈبے کا دودھ پیتی ہے اور اس  کی پرورش اس کی بہو اور دادی کرنے کو تیار ہیں۔کیا شوہر کا اپنی بچی خلع کے بعد واپس لینا شرعی اعتبار سے درست ہے ؟برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت کا بغیر کسی معقول وجہ اور شدید مجبوری کے اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے، اس لیے جب تک کوئی مجبوری نہ ہو عورت پر لازم ہے کہ وہ حتی الامکان اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے، بلاوجہ شوہر سے خلع کا مطالبہ نہ کرے۔ اور شوہر کو حق حاصل ہے کہ وہ خلع دے یا نہ دے، البتہ خلع دینے کی صورت میں بیٹی کی پرورش کا حق  بلوغ تک ان کی والدہ کو حاصل ہے، بشرطیکہ بچوں کی والدہ  بچی کے غیرمحرم سے شادی نہ کرے،  اگر وہ بچی  کےغیرمحرم سے شادی کر لے، تو پھر نانی کوحقِ پرورش حاصل ہوگا ،اگر نانی زندہ ہوِ،اور اگر نانی زندہ نہیں یا پرورش نہ کرنا چاہے، تو  دادی کوحقِ پرورش حاصل ہوگا، اور نو سال کے بعد بچی کی پرورش کا حق اس کے والد کو حاصل ہوگا۔

حوالہ جات

حدثنا سليمان بن حرب ،ثنا حماد ، عن أيوب ، عن أبى قلابة ، عن أبى أسماء ، عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة.

(سنن أبي داؤد:رقم الحدیث: 2226)

وأما رکنہ فھو الإیجاب والقبول؛ لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ، ولا یستحق العوض بدون القبول .( بدائع الصنائع:3 /145)

 (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبراً وإلا لا، (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع، وبه يفتى".(ردالمحتار :3/566(

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

12  ٖذوالقعدْہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب