03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعلیقِ طلاق سے رجوع کا حکم
81736طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میری بیوی مجھ سے ناراض ہوکر اپنے گھر چلی گئی،کافی وقت گزرا،لیکن وہ نہیں آئی،ناراضگی کی وجہ میں نہیں لکھ رہا،ایک دن مجھے بہت غصہ آیا،تقریبا دو یا تین ماہ بعد میرے سالے کی شادی تھی،تو میں نے غصے میں بیوی کو میسج کیا کہ اگر سالے کی شادی سے پہلے واپس نہ آئی تو میری طرف سے تین طلاق،پھر کچھ دن گزرے تو مجھے احساس ہوا کہ میری بیوی نہیں آئے گی،تو میں نے خود ہی اسے میسج کردیا کہ میں اپنی بات واپس لیتا ہوں،تم جب چاہو آؤ۔

اب میری بیوی کل یا پرسو آرہی ہے،تو کیا میں بیوی کے پاس جاسکتا ہوں؟ یا مجھے کوئی کفارہ ادا کرنا ہوگا؟مطلب یہ ہے کہ اب میں کیا کروں؟ حالانکہ وقت سے پہلے میں نے اپنی بات واپس لے لی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایک بار طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کے بعد شرعا اس سے رجوع ممکن نہیں ہوتا،اس لئے مذکورہ صورت میں جب آپ کی بیوی سالے کی شادی سے پہلے گھر واپس نہیں آئی تو اسے تین طلاقیں واقع ہوگئیں،جس کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں رہا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (4/ 209):

"ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك".

"المحيط البرهاني في الفقه النعماني" (3/ 274):

"الوجه الثاني: أن يكتب إذا جاءك كتابي هذا فأنت طالق. وفي هذا الوجه لا يقع الطلاق إلا بعد مجيء الكتاب؛ لأنه علّق الطلاق بالشرط كتابة، ولو علقه بالشرط مقالة لا يقع الطلاق قبل وجود الشرط كذا ههنا. فإن كتب أول الكتاب أما بعد: إذا جاءك كتابي هذا أنت طالق، ثم كتب الحوائج، ثم بدا له مجيء الحوائج وترك قوله: إذا جاءك كتابي هذا فأنت طالق فوصل إليها هذا القدر يقع الطلاق. وإن محى قوله إذا جاء كتابي هذا فأنت طالق وترك الحوائج لا يقع الطلاق عليها وإن وصل إليها الكتاب، هكذا ذكر شيخ الإسلام رحمه الله؛ لأن شرط وقوع الطلاق عليها أن يصل إليها ما كتب قبل قوله هذا ولم يصل لما محاه قبل الوصول.

وذكر شمس الأئمة السرخسي رحمه الله: أنه إذا محى ذلك الطلاق من كتابه، وترك ما سوى ذكر وبعث بالكتاب إليها فهي طالق إذا وصل، وهكذا ذكر في «العيون» ؛لأن شرط وقوع الطلاق وصول كتابه إليها وقد وصل، ومحي الطلاق بمنزلة الرجوع عن التعليق، وإن محى الخطوط كلها وبعث بالبياض إليها تطلق".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

21/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب