03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم والدکی اجازت سے گھرکی چھت پرتعمیرکئےگئےکمرے کا حکم
81597میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال والد کی زندگی میں ایک بیٹے نے اس مکان پر اوپر کمرہ بنوایا تھا اپنے پیسوں سے،کیا اب جائیداد کی تقسیم کی وقت وہ اس کمرے کا الگ سے مطالبہ کرسکتا ہے؟

تنقیح:سائل نے بتایا کہ یہ کمرہ بیٹے نےاپنے لئے بنوایا تھا،لیکن والد صاحب سے ٍصراحت کے ساتھ اجازت لینے کی ضرورت نہیں محسوس کی،البتہ سب گھر والوں کو اور والد صاحب کو اس بارے میں علم تھا اور انہوں نے اس پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں کیا،جبکہ اس سے پہلے بڑے بھائی نے تعمیر کا ارادہ کیا تو والدین نے منع کردیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرچہ آپ نے یہ کمرہ تعمیر کرتے وقت مرحوم والد سے صراحت کے ساتھ اجازت نہیں لی تھی،لیکن جب اس کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا تو یہ حکماً ان کی طرف سے اجازت شمار ہوگی،لہذا اس کمرے کی تعمیر کی مد میں آپ اضافی رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں،لیکن اصولی طور پر آپ کو اس کمرے کی ملبے کی صورت میں بننے والی قیمت کے مطالبے کا حق حاصل ہے،اس میں سے بھی اس کمرے سے ملبہ نکالنے پر آنے والی اجرت کو منہا کیا جائے گا،البتہ تمام ورثا کی باہمی رضامندی سے اس کے علاوہ  بھی کوئی قیمت طے کی جاسکتی ہے جوکمرے کی تعمیر پر آنے والے آخراجات،یا اس کی موجودہ قیمت کی صورت میں ہوسکتی ہے۔

حوالہ جات

 "العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" (2/ 81):

"(سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟

(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء".

"الدر المختار " (5/ 681):

"(ولو أعار أرضا للبناء والغرس صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب