03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وارث کا اپنا حصہ لینے سے انکار کا حکم
81596میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال اگر کوئی حصہ دار اپنا حصہ نہ لینا چاہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال اگر کوئی حصہ دار رابطہ نہیں رکھنا چاہتا یا جواب نہ دے تو اس کے حصے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ورثا میں سے بعض کا میراث میں اپنا حصہ لینے سے انکار کرنے یا معاف کرنے سےمیراث میں حق ختم نہیں ہوتا،اس لئے کسی بھی ممکن طریقے سے ورثا تک ان کا حصہ پہنچانا ضروری ہے،پھراپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اگر انہیں ضرورت نہ ہو تو وہ اپنی مرضی سے جسے چاہیں اپنا حصہ ہبہ کرسکتے ہیں،لیکن ایک سے زائد ورثا کو اپنا حصہ ہبہ کرنے کی صورت میں باقاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حصہ دینا ضروری ہوگا،مشترکہ طور پر ہبہ کرنے سے ہبہ صحیح نہیں ہوگا۔

یا پھر حصہ وصول کرنے سے پہلے ترکہ میں سے کچھ عوض لے کر اپنے بقیہ حصے سے دستبردار ہوسکتے ہیں،لیکن اس صورت میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ اگر وہ نقدی کی صورت میں کچھ حصہ لینا چاہیں تو نقدی کی یہ مقدار ترکہ میں موجود نقدی میں ان کے حصے سے زائد ہونی ضروری ہے،تاکہ اضافی نقدی ترکہ میں موجود دیگر سامان کے مقابلے میں آجائے۔

حوالہ جات

"غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائرللحموي" (3/ 354):

" لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه، وكذا لو قال المرتهن: تركت حقي في حبس الرهن بطل،كذا في جامع الفصولين للعمادي، وفصول العمادي .

قوله: لو قال الوارث: تركت حقي إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء، وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية ولا يخالفنا إلا في الدين، فإنه يجوز تمليكه ممن هو عليه.

قوله: كذا في جامع الفصولين. يعني في الثامن والثلاثين وعبارته: قال أحد الورثة برئت من تركة أبي؛ يبرأ الغرماء عن الدين بقدر حقه لأن هذا إبراء عن الغرماء بقدر حقه فيصح ولو كانت التركة عينا لم يصح. ولو قبض أحدهم شيئا من بقية الورثة وبرئ من التركة وفيها ديون على الناس لو أراد البراءة من حصة الدين صح لا لو أراد تمليك حصته من الورثة لتمليك الدين ممن ليس عليه".

"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق" (5/ 49):

"قال - رحمه الله - (وإن أخرجت الورثةأحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب