| 83716 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم! میری دوست بہن کی شادی 2021 میں ہوئی تھی،نند اور نندوئی نے کروائی تھی، شادی کے شروع سے ہی سسرال کا رویہ بہت برا تھا، بات بات پر بے عزت کرتے تھے، شادی شدہ نند بہت ظلم کرتی تھی ،شوہر کو ہر وقت بھڑکا تی رہتی تھی ،ساس سسر اور شوہر کوئی بھی نند کو نہیں روکتا تھا ،سب اس کا ساتھ دیتے تھے ،لڑکی کو روٹی نہیں بنانا آتی تھی اچھی، جس پر سسرال والے مزید نفرت کرنے لگے، سسر بہت گندی نظروں کے تھے، نازیبا حرکت والے، جسکی گواہی ان کے پڑوس نے بھی دی، لڑکی نے سسرال اور شوہر کبھی کسی سے بدتمیزی نہیں کی، سب کا خیال رکھا ،پھر بھی نند اور ساس بولتی تھی کہ جو میری بیٹی کے ساتھ اسکی نندوں نے کیا وه تمہارے ساتھ کرے گی، شوہر کمرے کی ہر ذاتی بات ماں، شادی شدہ بہن کو بتاتاتھا ،وه اس کو بھڑکاتی تھیں،شوہر کبھی بیوی کا ساتھ نہیں دیتا تھا ،روز ایک نیا الزام لگ جاتا تھا ، نہ ساس کچھ بولتی تھی نہ شوہر، ساس ہر بات گھر کی شادی شدہ بیٹی کو بتاتی تھیں جا کر، اور شوہر بھی، سب مل کر بہت تنگ کرتے تھے، میکہ نہیں جانے دیتے تھے ایک کمرہ تک ذاتی نہیں تھا، نہ واشروم، کمرے کا گیٹ تک بند نہیں کر سکتی تھی، روز ذلیل کرتے تھے سب،لڑکی نے کبھی نہ شوہر سے زبان چلائی نہ سسرال سے، اسکو صرف شادی کے 1 ماہ میں ذہنی طور پر تھکا دیا تھا، پر لڑکی نے برداشت کیا ،شوہر کا سلوک لڑکی کا گھر والوں سے بھی برا تھا ،شادی کے دو ماہ بعد اللّه نے اولاد کی نعمت سے نوازا تھا، پر اس پر بھی شادی شدہ نند نے الزام لگایا کہ لڑکی نے دو ماہ چھپایا، اس بات کو شوہر نے اس بات پر بہت بد تمیزی کی اور بولا کہ میری بہن ٹھیک بول رہی ہے، لڑکی پر چیخ پکار کی ،ساس سسر کسی نے نند کو نہیں روکا ،لڑکی نے تب بھی کسی سے کچھ نہیں کہا ،چپ رہی ،شوہر کا ہمیشہ خیال رکھا،ساس کا ساتھ دیا، بیٹی بن کر انکے پیر تک دبائے، پر کسی نے عزت نہیں دی، لڑکی نے جب تھک ہار کر اپنی فیملی کو بلایا کہ اب برداشت سے باہر ہے، آکر بات کریں، تو اس پر بھی سسرال کو برا لگا اور نند نے شوہر کو بولا کہ بیوی سے موبائل چھین لو اور لڑکے نے ایسا ہی کیا اور لڑکی کو اس کی ماں کے گھر چھوڑ دیا، اس سب میں کسی نے یہ خیال نہیں کیا کہ ایک لڑکی ماں بننے والی ہے ،ان حالات کا کیا اثر ہو گا اولاد اور لڑکی پر!لڑکی جب تک اپنے ماں کے گھر رہی لڑکے نے اپنی بہن کے بولنے پر بیوی اور ہونے والی اولاد کا کوئی خرچ نہیں دیا کہ ماں کے گھر ہے وه لوگ اٹھائیں خرچہ، پھر چند ماہ بعد لڑکے والوں کی طرف سے انکے بڑوں نے بات کرنے کے لے آنے کا بولا،لیکن شادی شدہ نند نے نہیں آنے دیا ،کیونکہ اسکو ڈر تھا کہ اسکی باتیں نہ کھل جائیں سب کے سامنے، پھر کچھ وقت کی خاموشی کے بعد لڑکا بات کرنے آیا، لڑکی نے اسکو سب بتایا، پھر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ،لڑکی والوں نے پھر بولا کہ گھر کے بڑوں کو لاؤ ، لڑکی کی ساس اور شوہر خود آئے اور ساس نے لڑکی کو مارا کیونکہ لڑکی نے غلطی سے تھوڑی آواز اونچی کر لی تھی،اس بات کو آنا کا مسئلہ بنا لیا اور لڑکی اتنا ڈر گئی اور تھک گئی تھی ذہنی طور پر، حمل کی تکلیف الگ ،پھر شوہر کا ساتھ نہ دینا ، لڑکی نے ڈر کے بول دیا کہ نہیں رہنا شوہر کے ساتھ، جبکہ حقیقت میں وه شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، پر سسرال کے ساتھ نہیں، الگ رہنا چاہتی تھی، لڑکے والے نہیں چاہتے تھے کہ بیٹا الگ ہو، انہوں نے بیٹے کو بھڑکا کر زبردستی تین طلاق دلوا دیں لکھ کر اور ہونے والی پہلی اولاد بھی چھوڑ دی،نہ حق مہر دیا نہ عدّت کا خرچہ دیا۔رمضان کا 27 روزہ تھا، لڑکی والوں نے بولا بھی کہ عید تک رک جائیں عید کے بعد بات کرتے ہیں ، پر لڑکے والوں نے بہت بد تمیزی کی، جہیز کا سامان اٹھا کر پھینکنے کا بولا ،کچھ نہیں سنا، تو کیا یہ طلاق ہے یا خلع؟کیا لڑکی حق مہر اور جو تحفے لڑکے کی طرف سے ملے تھے لڑکی کا حق تھے یا نہیں ؟لڑکے والوں کی طرف سے ان طلاق کے پیپرز پر لڑکی والوں کو بہت شک تھا کہ کوئی دھوکہ کیا گیا ہے، تبھی کورٹ میں کیس کیا لڑکے کو وہاں بلا یا، لڑکا نہیں آیا، بیٹی ہوئی پلٹ کر اسکو بھی نہیں پوچھا، دوسری شادی کرلی۔وه بچی ایک سال کی ہو کر دنیا سے چلی گئی، پر باپ نے پلٹ کر پوچھا تک نہیں۔لڑکے سے اسکی ماں اور شادی شدہ بہن نے بولا کہ لڑکی نے اولاد کو ختم کروا لیا اور لڑکے نے انکی سب باتوں کا یقین کیا پر خود سے کوئی کوشش نہیں کی سچ جاننے کی، بچی پیدا ہوئی اسکو پتہ چلا تب بھی اس سے ملنے کی کوشش نہیں کی، اپ مسئلہ پڑھ کر رہنمائی کریں۔ اس ایک سال میں لڑکی نے اکیلا پالا بچی کو، سب خرچ اسکی والدہ نے کیا ،جبکہ باپ کو بچی کی پیدائش کا علم ہو گیا تھا ،اس نے اپنی ماں شادی بہن کے بولنے پر خرچہ نہیں دیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1. واضح رہے کہ تین طلاق دینے پر وہ تینوں واقع ہوجاتی ہیں،چاہے ایک ساتھ ہوں یا الگ الگ ،اوربیوی شوہر پر حرمت ِمغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقین واقع ہوچکی ہیں،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور بغیر حلالہ دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ، جہاں چاہے ،نکاح کرسکتی ہے۔
2. اگر عدت جاری ہے تو اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہے،اس لیے کہ خاتون اس کی زبردستی کی وجہ سے والد کے گھر آئی ہے،اوراگر عدت ختم ہوچکی اورقاضی (عدالت ) نے خرچہ طے کیا تھایا فریقین نے باہمی رضامندی سے کسی مقدار کا تعین کرلیا تھااورشوہر نےادائیگی نہ کی ہو تو مطلقہ بیوی عدت کے نفقہ کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اس کا ادا کرناشوہر پر لازم ہوگا اور اگر ان دو صورتوں میں سے کوئی صورت نہیں پائی جاتی تو عدت کے نفقہ کی ادائیگی شوہر پر لازم نہیں ہوگی۔
3. شرعاً مہر بیوی کا حق ہوتا ہے، جو شوہر کے ذمےبیوی کو دینا لازم ہے۔قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں خوش دلی سے عورتوں کے مہر اداکرنے کا حکم دیاگیاہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِباری تعالیٰ ہے:
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ."
"اوردے دو عورتوں کواُن کے مہرخوشی سے "۔(النساء:4)
اس آیتِ کریمہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مہر عورت کاحق ہے اور شوہرپراس کی ادائیگی واجب ہے۔واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کے حقوق واضح فرما دیئے ہیں، جن کی مکمل پاسداری لازم ہے، اور کسی کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ دوسرے کے حقوق پامال کرے، یا کسی بھی طرح ظلم و زیادتی کرے،خصوصاً بیوی کے حقوق کے سلسلے میں شریعتِ مطہرہ نے بڑی تاکید فرمائی ہے، لہذا ان کے حقوق کی رعایت نہایت ضروری ہے۔
4. بیوی کی طلاق کے بعد بھی بچوں کا نفقہ والد کے ذمہ ہی رہتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص اپنی اولاد کا نفقہ ادا نہ کرے اور کچھ عرصہ گزر جائے تو اس شخص سے اپنے بچے کا گزشتہ عرصہ کا نفقہ ساقط ہو جاتا ہے اور وہ اس کے ذمہ باقی نہیں رہتا۔لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے اپنی بچی کا گزشتہ عرصہ کا نفقہ ادا نہیں کیا تو وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔
5. جو سامان جہیز،کپڑے وغیرہ لڑکی کو میکہ والوں کی طرف سے ملتا ہے وہ لڑکی کی ملکیت شمار ہوتی ہے، اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے جو عام استعمال کی چیزیں مثلاً کپڑے ، جوتے ، گھڑی وغیرہ لڑکی کو دیے جاتے ہیں ، اسی طرح منہ دکھائی کے موقع پر جو چیز دی جائے، یہ سب بھی لڑکی ہی کی ملکیت ہے۔
لڑکی کو نکاح کے موقع پر مہر کے علاوہ جو زیورات سسرال والوں کی طرف سے ملتے ہیں، ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر زیورات دیتے وقت سسرال والوں نے اس بات کی صراحت کی تھی کہ یہ بطورِ عاریت یعنی صرف استعمال کرنے کے لیے ہیں تو پھر یہ زیورات لڑکے والوں کی ملکیت ہوں گے، اور اگرسسرال والوں نےہبہ ، گفٹ اور مالک بناکر دینے کی صراحت کردی تھی تو پھر ان زیورات کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں کی تھی تو پھر لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف و رواج بطورِ ملک دینے کا ہے یا ان کا کوئی رواج نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں زیورات کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر بطورِ عاریت دینے کا رواج ہے تو پھر سسرال والے ہی مالک ہوں گے۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندية (1/ 349):
(وأما البدعي)۔۔۔ (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.
وفي الهنديه(10/196) :
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين .
وفی التبیین(6/486) :
قال رحمه الله ( وكره بشرط التحليل للأول ) أي يكره التزوج بشرط أن يحلها له يريد به بشرط التحليل بالقول بأن قال تزوجتك على أن أحلك له أو قالت المرأة ذلك .وأما لو نويا ذلك في قلبهما
ولم يشترطاه بالقول فلا عبرة به ويكون الرجل مأجورا بذلك لقصده الإصلاح.
وفی الشامیة(3/594):
" (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.
(قوله : والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة."
في الدر المختار مع حاشية ابن عابدين(4 / 308):
( جهز ابنته ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية وقالت هو تمليك أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه وقال الأب ) أو ورثته بعد موته ( عارية ف ) المعتمد أن ( القول للزوج ولها إذا كان العرف مستمرا أن الأب يدفع مثله جهازا لا عارية ، و ) أما ( إن مشتركا ) كمصر والشام ( فالقول للأب ) كما لو أكثر مما يجهز به مثلها .
قال ابن عابدين : ومقتضاه أن المراد من استمرار العرف هنا غلبته ، ومن الاشتراك كثرة كل منهما
إذ لا نظر إلى النادر ولأن حمل الاستمرار على كل واحد من أفراد الناس في تلك البلدة لا يمكن ، ويلزم عليه إحالة المسألة إذ لا شك في صدور العارية من بعض الأفراد والعادة الفاشية الغالبة في أشراف الناس وأوساطهم دفع ما زاد على المهر من الجهاز تمليكا سوى ما يكون على الزوجة ليلة الزفاف من الحلي والثياب ، فإن الكثير منه أو الأكثر عارية ، فلو ماتت ليلة الزفاف لم يكن للرجل أن يدعي أنه لها يلي القول فيه للأب أو الأم أنه عارية أو مستعار لها كما يعلم من قول الشارح ، كما لو كان أكثر مما يجهز به مثلها وقد يقال هذا ليس من الجهاز عرفا . وبقي لو جرى العرف في تمليك البعض وإعارة البعض . ورأيت في حاشية الأشباه للسيد محمد أبي السعود عن حاشية الغزي قال الشيخ الإمام الأجل الشهيد : المختار للفتوى أن يحكم بكون الجهاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب . وأما إذا جرت في البعض يكون الجهاز تركة يتعلق بها حق الورثة هو الصحيح .ا هـ .
رد المحتار: (3/153 ط: دار الفکر):
ومن ذلك ما يبعثه إليه قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابا ونحوها صبيحة العرس أيضا۔
و فيه أيضا: (5/696، ط: دار الفکر):
(قوله: وكذا زفاف البنت) أي على هذا التفضيل بأن كان من أقرباء الزوج أو المرأة أو قال المهدي.أهديت للزوج أو المرأة كما في التتارخانية.وفي الفتاوى الخيرية سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله، وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولا ينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا اه.
الھندیة: (1/327، ط: دار الفکر):
وإذا بعث الزوج إلی أھل زوجتہ أشیاء عند زفافھا منھا دیباج، فلما زفت إلیہ أراد أن یسترد من المرأۃ الدیباج لیس لہ ذلک، إذا بعث إلیھا علی جھۃ التملیک - إلی قولہ - وقال في الواقعات: إن کان العرف ظاھراً بمثلہ في الجھاز کما في دیارنا، فالقول قول الزوج، وإن کان مشترکا، فالقول قول الأب۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
30/شوال1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


