| 81678 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اگر شوہر کسی ایسے کام سے روکے جو جھگڑے اور فساد کا سبب بن رہا ہو اور جرگے میں طے پائے کہ لڑکی موبائل استعمال نہیں کرے گی،لڑکی کا والد اور بھائی اس بات کو تسلیم کرلیں،لیکن بعد میں لڑکی کو اس کے سسرال بھیجیں تو ایک کے بجائے دو دو موبائل ملے،جب لڑکی کے گھر والوں کو جرگے میں طے شدہ بات کا بتایا جائے تو لڑکی والے نماز کا بہانہ بنائیں کہ ہم نے نماز کے لئے دیا ہے،اس حوالے سے شریعت کے کیا احکامات ہیں،جب کہ یہ معاملات جرگے میں طے شدہ فیصلے کے خلاف کئے گئے ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے جائز امور میں بیوی کو شوہر کی اطاعت کا پابند بنایا ہے،یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کا مفہوم ہے کہ اگر اسلام میں کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
اس لئےاگرکسی معقول وجہ کی بناء پر شوہر بیوی کو ذاتی موبائل رکھنے سے منع کرے تو بیوی پر اس کی اطاعت لازم ہے،خصوصا جب موبائل کی وجہ سے عورت کے کسی فتنے میں ابتلاء کا اندیشہ ہواور جرگے میں لڑکی کے اولیاء نے اس پابندی کو تسلیم بھی کرلیا ہے۔
نماز کے وقت یا آلارم کے لئے موبائل کے بجائے گھڑی استعمال کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
"سنن الترمذي " (2/ 456):
عن أبي هريرة، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها".
قال ملا علی القاری رحمہ اللہ فی شرحہ المرقاة:" (وعن أبي هريرة قال: قال رسول ﷲ - صلى ﷲ عليه وسلم - لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد) : والسجود كمال الانقياد (لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها) : أي: لكثرة حقوقه عليها وعجزها عن القيام بشكرها وفي هذا غاية المبالغة لوجوب إطاعة المرأة في حق زوجها فإن السجدة لا تحل لغيرﷲ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


