| 81683 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بچی دورانِ ناراضگی والدہ کے پاس رہ رہی ہے،جس کی عمر آٹھ ماہ ہے،والد کو ایک بار بھی بچی سے ملنے نہیں دیا گیا،کیا شریعت کے مطابق اس کی کفالت کی رقم والد ادا کرنی ہوگی؟ اگر ہاں تو کتنی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بچوں کے نان و نفقہ اور علاج معالجہ ،تعلیم وغیرہ کے اخراجات والد کے ذمہ اس کی استطاعت کے بقدر لازم ہوتے ہیں،بیٹے کے اخراجات بالغ ہو کر کمانے کے قابل ہونے تک او ربیٹی کے اخراجات اس کی شادی ہونے تک والد کے ذمہ ہوتے ہیں، البتہ شریعت نے اس کی کوئی خاص مقدارمقرر نہیں کی ،لہذا بچی کے والد کی مالی وسعت اور بچی کی ضروریات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے باہمی رضامندی سے کوئی مقدار طے کی جاسکتی ہے،جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کے معزز اور سمجھ دار بزرگ افراد باہم بیٹھ کر کوئی خرچ مقرر کرلیں،البتہ یہ ذہن میں رہے کہ والد کی وسعت سے زیادہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ۔
نیز والدہ بچی اور اس کے والد کی ملاقات کے درمیان رکاوٹ بن کر والد کی حق تلفی کی وجہ سے مسلسل گناہ کی مرتکب ہورہی ہے،اس لئے اس کے ذمے لازم ہے کہ اس سے توبہ تائب ہوکر آئندہ کے لئے والد اور بچی کے درمیان حائل نہ بنے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية "(1/ 543):
"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


