| 83902 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
اگر ورثہ میں سے کوئی ایک یا سب اپنا اپنا حصہ کسی ایک وارث کو دینا چاہتا/چاہتی ہو تو تقسیم کے بعد رقم بینک اکاؤنٹ سے نکلواکر اس پر قبضہ کرناضروری ہوگا یا بلاقبضہ صرف دستاویزی تقسیم پر اپنا حصہ دوسرے کو دے سکتاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں قابلِ تقسیم چیز کو قبضہ کیے بغیر کسی وارث کا اپنا حصہ دوسرے کو دینے سے شرعاً ہبہ (گفٹ) نافذنہیں ہوتا ۔لہذا متروکہ جائیداد وغیرہ قابل تقسیم ہو تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے جائیداد کی تقسیم ہو اور ہر وارث اپنے حصہ پر قابض ہوجائے ، پھر جو وارث کسی کو اپنا کل یا بعض حصہ دینا چاہے، دیدے ، اسی طرح اگر کوئی وارث دولوگوں کو اپنا حصہ دینا چاہے اور اس کا حصہ بھی قابلِ تقسیم ہو تو ہر ایک کو اس کا حصہ متعین کرکےالگ الگ دے ، مشترکہ طور پر نہ دے ۔
حوالہ جات
وفی الدر(8/489):
"وشرائط صحتها في الموهوب أن یکون مقبوضاً غیر مشاع..." الخ
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
13/ذیقعدہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


