03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت ختم ہونے پر رقم ایک سال میں واپس کرنے پر نفع کا مطالبہ کرنا
83783شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

اصغر نے اکبر کے ساتھ کاروبار میں پرافٹ کی بنیاد پر شرکت کی، چھ سال کے بعد اصغر نے کہا کہ میرا حساب کر کے میری رقم واپس کر دو، حساب کے بعد اصغر کو بتایا گیا کہ آپ کی اتنی رقم بنتی ہے، ریکوری ہونے پر آپ کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ کیونکہ ہمارا 95فیصد کاروبار ادھار کی بنیاد پر چلتا ہے،جیسے جیسے ریکوری مارکیٹ سے ہوتی رہی، اصغر کو رقم ادا کی جاتی رہی، اس ریکوری میں تقریبا ایک سال لگ گیا، اب اصغر کا کہنا ہے کہ میری رقم سال کے بعد ادا ہوئی ہے، لہذا اس سال کا نفع کا بھی حساب ہونا چاہیے اور میری لگی ہوئی رقم کے حساب سے مجھے نفع ملنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اصغر کا اس سال کا نفع کا مطالبہ درست ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ میرا کاروبار کسانوں کو سپرے اور بیج وغیرہ فروخت کرنے کا ہے اور ان کے ساتھ زیادہ تر معاملہ ادھار پر ہی چلتا ہے، کیونکہ کسان عام طور پر اسپرے وغیرہ ادھار لےکرفصل پر خرچہ کرتے رہتے ہیں اور پھر فصل حاصل ہونے پر اس کی ادائیگی کرتے ہیں، جس وقت میں نے اصغر کا حساب کیا تو اس وقت دکان میں تقریباً سات آٹھ لاکھ کا مال تھا، جبکہ لوگوں سے وصول ہونے والےقرضوں کی مالیت دو کروڑ سے اوپر تھی، میں نے مکمل حساب کر کے اسےبتا یا کہ آپ کی رقم اتنی رقم بنتی ہے، جو ریکوری ہونے کے ساتھ ساتھ ادا کی جاتی رہے گی۔ نیزاس نے پندرہ لاکھ روپےمیرے پاس لگائے تھے، میں نے پرافٹ لگا کر چالیس لاکھ روپیہ اس کو ادا کیا۔ جس میں سے ایک لاکھ روپیہ فوری  اور باقی ریکوری ہونے پر سال کے اندر ادا کیا۔معاملہ ہو جانے کے بعد ریکوری کرنا میرے ذمہ تھی اور ریکوری ہوتی یا ن ہوتی، بہرصورت اس کی ادائیگی میرے ذمہ واجب تھی۔نیز اس کے بعد اصغرعملی طور پر کاروباری معاملات میں بالکل شریک نہیں ہوا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرکت کے معاملے میں جب کوئی شخص علیحدگی اختیار کرتا ہے تو وہ حقیقت میں کاروبار میں موجود  اپنا حصہ دوسرے شریک کو فروخت کرتا ہےاوراس طرح اپنا مكمل حصہ فروخت کرنے کے بعد فریقین کے درمیان شرکت کا معاملہ شرعاً ختم ہو جاتا ہے، لیکن خریدو فروخت کے لیے ضروری ہے کہ شرکت کے کاوربار میں نقد اثاثے بھی کافی مقدار میں موجود ہوں، اگر کاروبار میں نقد اثاثے نہ ہوں یا اثاثوں کی مقدار بہت کم اورباقی سب لوگوں کے ذمہ واجب الاداء دیون (قرضے) ہوں تو ایسی صورت میں دیون یعنی وصول ہونے والے قرضوں کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سےخریدوفروخت کا معاملہ درست نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں "بیع الدین من غیر من علیہ الدین" (دَین یعنی قرض اس شخص کو بیچنا جس پر اس کی ادائیگی لازم نہیں تھی) کی خرابی لازم آتی ہے اور ایسی خریدوفروخت حنفیہ کے نزدیک باطل اور ناجائزہے۔ بعض علمائے کرام نے  موجودہ زمانے میں ضرورت کے پیشِ نظر اس شرط کے ساتھ اس خریدوفروخت کو جائز قراردیا ہے کہ اس شخص کا اثاثوں میں موجود حصہ دیون(قرضوں) میں موجود حصے سے زیادہ ہو تو دیون کو تابع قرار دے کر جواز کا حکم لگایا جا سکتا ہے، لیکن مذکورہ صورت میں حساب کرتے وقت اس شخص کا اثاثوں میں موجود حصہ دیون میں موجود حصوں سے بہت کم تھا، کیونکہ دیون کی مقدار موجودہ اثاثوں کے مقابلے میں بہت زیادہ  تھی، اس لیے دیون کو موجودہ اثاثوں کے تابع بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لہذا مذکورہ صورت میں خریدوفروخت کا معاملہ شرعاً درست نہ ہونے کی وجہ سے فریقین کے درمیان شرکت کا معاملہ ختم نہیں ہوا،بلکہ کاروبار میں شرکت بدستور باقی رہی، البتہ جیسے جیسے اکبر اصغر کو کاروبار سے رقم نکال کر دیتا رہا اس کے حساب سے اصغر کا سرمایہ کم ہوتا رہا اور جب اکبر نے مکمل رقم ادا کر دی تو فریقین کے درمیان عملی طور پر شرکت کا معاملہ ختم ہو گیا۔ البتہ اس سے پہلے اصغر اپنے سرمایہ کے حساب سے نفع کا شرعاً حق دار ہے، لہذا  اس کا رواں سال اپنے سرمایہ کے تناسب سے نفع کا مطالبہ کرنا درست ہے۔ اور شرعاً آپ پر لازم ہے کہ اس سال کاروبار میں موجوداس کے سرمایہ کے تناسب سے اس کو نفع اداکریں۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (14/ 22) دار المعرفة،  بيروت:

وإذا كان لرجل على رجل ألف درهم من قرض أو غيره فباع دينه من رجل آخر بمائة دينار وقبض الدنانير لم يجز وعليه أن يرد الدنانير؛ لأن البيع لا يرد إلا على مال متقوم، وما في ذمة زيد لا يكون مالا متقوما في حق عمرو فلا يجوز بيعه منه، ولأن البائع لا يقدر على تسليمه حتى يستوفي، ولا يدري متى يستوفي، وهذا على قول من يقول النقد المضاف إليه يتعين في العقد، وكذلك بيع الدين من غير من عليه الدين، والشراء بالدين من غير من عليه الدين سواء كل ذلك باطل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 148) دار الكتب العلمية،  بيروت:

ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين؛ لأن الدين إما أن يكون عبارة عن مال حكمي في الذمة، وإما أن يكون عبارة عن فعل تمليك المال وتسليمه، وكل ذلك غير مقدور التسليم في حق البائع، ولو شرط التسليم على المديون لا يصح أيضا؛ لأنه شرط التسليم على غير البائع فيكون شرطا فاسدا فيفسد البيع، ويجوز بيعه ممن عليه؛ لأن المانع هو العجز عن التسليم.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 280) دار الكتاب الإسلامي:

وأن يكون ملكا للبائع ما ليس كذلك فلم ينعقد بيع ما ليس بمملوك له، وإن ملكه بعده إلا السلم والمغصوب لو باعه الغاصب، ثم ضمن الغاصب قيمته نفذ بيعه لاستناد الملك إلى وقت البيع فتبين أنه باع ملك نفسه وقلنا فيما يبيعه لنفسه ليخرج النائب والفضولي فالأول نافذ. والثاني منعقد موقوفا وقلنا وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع معجوز التسليم عند البائع كبيع الآبق في ظاهر الرواية، فإن حضر احتيج إلى تجديد الركن قولا أو فعلا، وكذا بيع الطير في الهواء بعد أن كان في يده وطار والسمك بعد الصيد والإلقاء في الحظيرة إذا كان لا يمكن أخذه إلا بصيد ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين.

فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني(363/1) مكتبة معارف القرآن كراتشي:

جاء في الدر المختار (5/ 708):

"(تمليك الدين ممن ليس عليه الدين باطل إلا) في ثلاث: حوالة، وصية، و (إذا سلطه) أي سلط المملك غير المديون (على قبضه) أي الدين (فيصح) حينئذ."وإن الفقهاء استعملوا هنا كلمة "التسليط" دون التوكيل، والظاهر في الفرق بينهما أن الوكالة عقد ثنائي لايتم إلا بالإيجاب والقبول من الطرفين، ويجب أن يتما في مجلس العقد، فهو التمكين بالإذن، ويمكن أن يتم من طرف واحد فقط، ولذلك عبر عنه في جامع الفصوليين بالإذن ونصه:هبة الدين ممن ليس عليه لم تجز إلا إذا وهبه وإذن له بقبضه وقال في البحر الرائق (7/ 284) عن المحيط:

"ولو وهب دينا له على رجل وأمره أن يقبضه فقبضه جازت الهبة استحسانا فيصير قابضا للواهب بحكم النيابة ثم يصير قابضا لنفسه بحكم الهبة وإن لم يأذن في القبض لم يجز"

فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني(696/2)مكتبة معارف القرآن كراتشي:

لم يتفق للمجمع بعد ذلك وضع هذه اللائحة، ولكن فهم من أصل القرار أنه إذا كانت نسبة الأعيان والمنافع أقل من 51في المائة ، فلا يجوز بيع  السهم إلا بشروط الصرف؛ لأن النقود والديون إن زادت على نصف المتملكات لم تكن تابعة للأعيان.ولكن هذا القرار إن كان تخريجه على مذهب الإمام أحمد رحمه الله في مسئلة بيع العبد وله مال فإن المختار من مذهبه رحمه الله تعالى في ذلك أنه لم يشترط لجوازه أن تكون نسبة قيمة العبد غالبة على ما عنده مال بل الصحيح من مذهبه إن كان بيع العبد وليس بيع المال الذي عنده فإن ذلك يجعل تابعا وإن كانت النسبة قليلة أوكثيرة........................ أما الحنفية فأصل مذهبهم أن يكون ثمن السهم أكثر من حصته في النقود والديون كما فصلناه  فيما سبق. وليس ھناك نسبة معينة عند الحنفية للأعيان في هذا الحكم، فجرى هذا الحكم وإن كانت الأعيان نبسة ضئيلة جدا. ولكن اشترط المعاصرون أن لا تقل القيمة السوقية للأعيان والمنافع والحقوق عن نسبة30 في المائة من إجمالي موجودات الشركةوهذا لئلا تتخذ مسئلة"مدعجوة" حيلة للربا.

المعايير الشرعية(331):

يوزّع الربح بشكل نهائي بناء على أساس الثمن الذي تم بيع الموجودات به، وهو ما يعرف بالنتضيض الحقيقي ويجوز أن يوزّع الربح على أساس التنضيض الحكمي، وھو التقويم للموجودات بالقيمة للعادلة وتقاس الذمم المدينة بالقيمة النقدية المتوقع تحصيلها، أي بعد حسم نسبة الديون المشكوك في تحصيلها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

7/ذوالقعدة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب