03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کے بعد شوہر رضامندی سے فیصلہ درست ہو جائے گا
83713طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میں نے شادی نبھانے کی بہت کوشش کی، میرے شوہر نے سات سال تک نوکری نہیں کی اور میں خود نوکری کر کے گھر کا خرچ چلاتی رہی، میں نے اپنے شوہر سے بہت کہا کہ میں اب نوکری کرکر کے تھک چکی ہوں، گھر کے سارے کام بھی میں خود کرتی ہوں، لیکن انہوں نے سنجیدگی سے نہ لیا، اس کے علاوہ حقِ زوجیت بھی ادا نہ کر سکے، باتیں بھی عجیب عجیب سی کرتے تھے، آخرکار میں نے اپنے والد کے ذریعہ خلع کا کیس فائل کر دیا اور وجوہات میں نان ونفقہ نہ دینا اور دماغی مسئلہ لکھا، حقِ زوجیت والی بات نہیں لکھی، کیونکہ میرے والد اس کا پردہ رکھنا چاہتے تھے، جب شوہر کو نوٹس گیا تو وہ عدالت میں حاضر ہو ئے، جواب میں انہوں نے الزامات قبول کرنے سے انکار کیا، آخری پیشی میں جج نے مجھے اور میرے شوہر کو الگ سے بلا کر صلح کی کوشش کی، میں نے صاف انکار کر دیا۔جج نے جب میرے شوہر سے پوچھا کہ آپ نے سات سال سے انہیں خرچہ نہیں دیا؟ تو میرے شوہر نے جج کے سامنے یہ بات تسلیم کی کہ ہاں واقعی میں نے سات سال نان ونفقہ کا انتظام نہیں کیا، میں نے جج کو بتایا کہ ان کی وجہ سے میرے اولاد نہیں ہے، صلح کی کوشش ناکام ہونے کے بعد جج نے خلع کی ڈگری جاری کر دی، جب شوہر سے پوچھا کہ حق مہر کی رقم واپس لیں گے تو اس نے  کہامیں واپس نہیں لوں گا، اس کے بعدسے میرا سابقہ شوہر بھی مانتا ہے کہ میں اس کی بیوی نہیں ہوں، البتہ انہوں نے اپنے منہ سے کچھ نہیں بولا اور نہ ہی خلع کے فیصلے پر دستخط کیے، کیونکہ جب کورٹ نے خلع جاری کر دی تو انہوں نے مان لیا کہ اب رشتہ ختم ہو گیا، کورٹ کے آرڈر پر انہوں نے مجھے پیسے بھی دیے، وہ کہہ رہا ہے کہ ایک طلاق ہوئی ہے اور عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں، اس نے جہیز کا سامان بھی واپس کر دیا ہے۔نیز جب عدالت سے ڈگری جاری ہوئی اور ہم باہر نکلے تو وہ مجھے غیر محرم سمجھ کر نظریں جھکا رہا تھا۔

وضاحت: سائلہ کے شوہر سے فون پر بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ خلع کا فیصلہ جاری ہونے کے بعد ایک وکیل نے مجھے سمجھایا کہ جب وہ آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور وہ عدالت سے خلع بھی لے چکی ہے، یہ بھی کہا کہ عدالت آپ کے متولی کی حیثیت سے خلع جاری کر سکتی ہے یہی بات بعد میں ایک مفتی صاحب نے کی، تو اس پر میں نے دل سے نیت کر لی تھی کہ چلیں اگر عدالت نے نکاح ختم کر دیا تو پھر ٹھیک ہے، ایک طلاق ہی ہوئی ہے، دوبارہ نکاح تو ہو سکتا ہے۔

سائلہ نے بتایا کہ جن نوکریوں کا ذکر جوابِ دعوی میں کیا گیا ہے، ان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ مستقل نہیں کر پائے، بلکہ چند ماہ بعد کمپنی/ادارے سے ان کو جواب دے دیا جاتا تھا، فیصلہ کے وقت بھی ان کی ملازمت لگی تھی، مگر ابھی تک تنخواہ نہیں ملی تھی،  سائلہ نے یہ بھی بتایا کہ ایک مرتبہ شوہر کی طرف سے میل آئی تھی جس میں لکھا تھا، ہمارا نکاح ختم ہو گیا ہے، البتہ ہم عدت کے دوران دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق منسلکہ عدالتی فیصلہ  کے بعدشوہر کا یہ کہنا"میں نے دل سے نیت کر لی تھی کہ چلیں اگر عدالت نے نکاح ختم کر دیا تو پھر ٹھیک ہے، ایک ہی طلاق ہوئی ہے، دوبارہ نکاح تو ہو سکتا ہے۔" خلع کے فیصلہ پر رضامندی کی علامت ہے، نیز دیگرقرائن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شوہر مذکورہ فیصلے پر رضامندی کا اظہار کر چکا ہے، جیسے اس کا عدالتی فیصلہ سے  ایک طلاق واقع ہونے کا کہنا، دوبارہ نکاح کے لیے میل کرنا اور یہ کہنا کہ جب عدالت نکاح فسخ کرنے کر چکی ہے تو اب میں کیا کر سکتا ہوں؟  اور  شرعی اعتبار سےمیاں بیوی کی باہمی رضامندی سے خلع کا فیصلہ درست اور معتبر ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں عدالت کی طرف سے جاری شدہ خلع کا فیصلہ شرعاً درست ہے اور اس کی وجہ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے اور وہ عدت گزرنے کے بعد گواہوں کی موجودگی میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم[البقرة: 228]:

{ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/شوال المکرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب