| 81926 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
عثمان نے دوشادیاں کیں،ایک بیوی کا نام رحیمہ تھا اور دوسری کا فاطمہ،رحیمہ سے ایک بیٹی پیدا ہوئی،جس کا نام زلیخا رکھا،پھر زلیخا کی بیٹی ہوئی جس کا نام آمنہ رکھا گیا اور آمنہ کا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا،جبکہ دوسری جانب فاطمہ کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سمیہ رکھا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا عبداللہ اور سمی کا نکاح ہوسکتا ہے؟واضح رہے کہ عبداللہ کی نانی جو کہ زلیخا ہے اور سمیہ دونوں سوتیلی بہنیں ہیں،اس لحاظ سمیہ رشتے میں عبداللہ کی سوتیلی خالہ بنتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں زلیخا اور سمیہ آپس میں باپ شریک بہنیں ہیں،اس لحاظ سمیہ عبداللہ کی باپ شریک خالہ بنتی ہے اور باپ شریک خالہ سے نکاح جائز نہیں،لہذا عبداللہ کا سمیہ سے نکاح درست نہیں ہے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (1/ 273):
"(القسم الأول المحرمات بالنسب) . وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت فهن محرمات نكاحا ووطئا ودواعيه على التأبيد .....
وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
07/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


