| 83736 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:میرااس لڑکی کےساتھ رہنا مشکل ہوگیاہےانہی حالات کی وجہ سےجو میں بتاچکاہوں ،تواسلام میں کس حدتک حکم ہوگاکہ میں برداشت کروں اور کس حد کےبعد چھوڑدوں؟
نماز ،روزہ کابول بول کر تھک گیاہوں ،دین سےبہت دوری ہے،اورایسی ایسی باتیں کرجاتی ہےکہ نعوذ باللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ اسلام میں رشتہ ازداج کو حتی الامکان نبھانےکاحکم ہےاپنی آخری حدتک کوشش کی جائےکہ رشتہ خراب نہ ہو،ہاں اگر بیوی کی طرف سےاس طرح کی حرکت مستقل ہوجوآپ نےسوال میں ذکر کی ہے،توایسی صورت میں شرعابہتریہی ہےکہ طلاق دےکرعلیحدگی اختیارکی جائےاوردوسراکوئی مناسب رشتہ تلاش کیاجائے،جہاں نکاح کےبنیادی مقاصد اچھی طرح حاصل ہوسکیں۔
قرآن مجیدمیں ارشادی باری تعالی ہے:
چنانچہ اگرتمہیں اس بات کااندیشہ ہوکہ وہ دونوں اللہ کی حدود کاقائم نہ رکھ سکیں گے،توان دونوں کےلیےاس میں کوئی گناہ نہیں ہےکہ عورت مالی معاوضہ دےکر علیحدگی حاصل کرلیے۔
یہ تواس صورت میں ہےجب شوہربغیرکچھ لیےطلاق دینےپر آمادہ نہ ہو،ورنہ شوہر کو توبغیرکچھ لیےشرعا طلاق کابھی مکمل اختیار ہے۔
موجودہ صورت میں بھی شوہراگرسمجھتاہےکہ مزید ساتھ نہیں رہ سکتےتواس کو مکمل اختیارہےکہ دوبارنہ نکاح نہ کرے ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت 229 :
فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔
" الھندیة"1 /488 :
اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
26/شوال 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


