| 83977 | نماز کا بیان | اذان و اقامت کے مسائل |
سوال
فرض کریں کہ مجھے جماعت کی نماز میں دیر ہو گئی ہے، اب جب میں خود ہی فرض نماز پڑھوں گا تو کیا مجھے فرض نماز سے پہلے اذان اور اقامت بھی پڑھنی ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرآپ انفرادی طورپرگھرمیں نمازپڑھ رہے ہیں تو مسجدکی اذان اوراقامت کافی ہے،دوبارہ دیناضروری نہیں، اگرنمازسے پہلےاذان اوراقامت کہہ لیں تواچھاہے،اوراگرنمازمسجدمیں اداکررہے ہیں توایسی صورت میں اذان اوراقامت کہنامکروہ ہے۔
حوالہ جات
فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 2 / ص 108):
ولو صلى الرجل في بيته وحده ، ذكر في الأصل إذا صلى الرجل في بيته واكتفى بأذان الناس وإقامتهم أجزأه ، وإن أقام فهو حسن
وفی الدر المختار للحصفكي (ج 1 / ص 426):
مصل (في مسجد بعد صلاة جماعة فيه) بل يكره فعلهما۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۴/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


