| 84019 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کھلم کھلا یا پوشیدہ گناہ جِس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا ہوتو اُس کا تذکرہ اگرکوئی اپنے دوستوں کے سامنے کر دےاور پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہو تو کیا سچی پکّی توبہ کے بعد بھی وہ معاف نہیں ہوگا ؟رہنمائی کیجئے ۔میں نےآپ کے مدرسہ کے اُستاد مفتی طارق مسعود صاحب کے بیان میں سنا ہے کہ جو پوشیدہ گناہ کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس پردہ ڈال دیتا ہے،اور جب وہ لوگوں کے سامنےاس کا تذکرہ کر دیتا ہے تو اُس کے لیے توبہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری ساری امت کو سوائے اعلانیہ اور کھلم کھلا گناہ کرنے والوں کے معاف کیا جائے گا ، اور یہ بھی اعلانیہ گناہ ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، حالانکہ اللہ تعالی نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا‘‘ ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اعلانیہ اور کھلم کھلا گناہ کرنایا گناہ کرکے اسے لوگوں سے فخرکےطورپر بیان کرناگناہ پر بڑی جسارت ہے، جو ایک طرح کی بغاوت ہے،اور یہ دنیا کا بھی قانون ہےکہ باغی کوکبھی معاف نہیں کیا جاتا۔ایسے ہی مذکورہ بالا حدیث شریف میں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کا ذکر ہےکہ بغیر توبہ کے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے چاہیں تو ساری امت کے سارے گناہ معاف کردیں ،جبکہ دوسری طرف اعلانیہ گناہ کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اتنی بڑی رحمت اور فضل کےباوجود بھی ان کو معاف نہیں کریں گے۔
مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو توبہ کےبغیر معافی نہیں ملے گی ،اور یہ بھی بعید نہیں کہ ایسےگناہوں کے اصرار سے توبہ کی توفیق ہی نہ ملے۔ کیونکہ اعلانیہ گناہ کرنےیا چھپ کر کیے ہوئے گناہوں کا اعلانیہ اقرار کرنےسے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور نیک بندوں کے حق میں استخفاف اور تحقیرلازم آتی ہے،یہ ان سے ایک قسم کا عناد اور بغاوت ہے، نیز یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہ پر پردہ ڈال دیے جانے کے بعدبھی اس کو چاک کرکے اللہ تعالیٰ کےغضب کو دعوت دینا ہے، چنانچہ جب یہ گناہوں سے توبہ کے بجائے بغاوت پر اصرار کرتے رہتے ہیں تو پھر ان کےدل زنگ آلود ہو جاتے ہیں ،اور توبہ کی توفیق بھی ان سے چھن جاتی ہے ۔(العیاذ باللہ) اسی طرح اس حدیث مبارک میں گناہ کا دوسروں سے تذکرہ کرنے کو بھی ایک اعلانیہ گناہ قرار دیا گیاہے،بلکہ بعض روایات میں اس کو "مجانۃ" یعنی احمقانہ عمل سے تعبیر کیا گیا ،جس کا مطلب یہ کہ جیسے پاگل آدمی اپنے قول و فعل سے بے پرواہ ہوتا ہے تو اپنے گناہ کا دوسروں سے تذکرہ کرنے والا بھی اظہارِ معصیت کے ساتھ ساتھ ایک اور مذموم،غیرذمہ دارانہ اور احمقانہ حرکت کرتا ہے،لہٰذا جب کوئی گناہ سرزد ہوجائے تواس کا لوگوں سے تذکرہ نہ کیا جائے،بلکہ توبہ و استغفار کے ساتھ یہ امید رکھنی چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ رکھ لیا تو مجھے اس کی اس رحمت سے حیاکرتے ہوئے آئندہ اس گناہ سے بچنا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی شانِ ستاریت سے آخرت میں بھی پردہ رکھ لے۔
نیز توبہ کا یہ اصول اپنی جگہ درست ہے کہ موت سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہےاور توبہ سے ہر بڑا گناہ معاف ہو جاتا ہے،چنانچہ اگرایسےاعلانیہ گناہ گار کو بھی توبہ کی توفیق مل جائےتو اسےمعافی مل سکتی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں اور اپنے بندوں کی توبہ سے خوش ہوتے ہیں۔لہٰذا اگر خدانخواستہ کسی سےایسا گناہ ہوگیا ہوتو اسے مایوس ہونے کے بجائے جلد از جلد توبہ کرلینی چاہیے، اورمسلسل بغاوت کےبجائےکثرت سےاستغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ توبہ کا مطلب یہ ہےکہ گناہ ہوجائے تو دل سے اس پر نادم و شرمندہ ہوکر اُسے چھوڑ دے،اورآئندہ اس کے نہ کرنے کی سچی نیت اور پختہ عزم کرلے،نیز اگرحقوق اللہ میں سے فرض یا واجب کو ترک کیا ہوتو اس کی قضا کرے،جبکہ حقوق العباد میں جس کا حق ضائع کیا ہواس حق کی تلافی کرے یا صاحبِ حق سے معافی مانگے۔
حوالہ جات
تفسير السمرقندي = بحر العلوم (1/ 288)
إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ يعني قبول التوبة على الله ويقال: توفيقه على الله، ويقال: إنما التجاوز من الله لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهالَةٍ قال ابن عباس رضي الله عنه: كل مؤمن يذنب فهو جاهل في فعله، ويقال: إنما الجهالة أنهم يختارون اللذة الفانية على اللذة الباقية، وذلك الجهل لا يسقط عنهم العذاب إلا أن يتوبوا. قوله ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ قال ابن عباس: كل من تاب قبل موته فهو قريب فَأُولئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أي يقبل توبتهم وَكانَ اللَّهُ عَلِيماً حَكِيماً يعني عليماً بأهل التوبة حكيماً حكم بالتوبة.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 139، 138):
عن سالم بن عبد الله قال: سمعت أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل أمتي معافى إلا المجاهرين، وإن من المجانة أن يعمل الرجل بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره الله فيقول: يا فلان} عملت البارحة كذا، وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه...قوله: (إلا المجاهرين) كذا في رواية الأكثرين بالنصب، وفي رواية النسفي: إلا المجاهرون، بالرفع على قول الكوفيين لأن الاستثناء منقطع وتكون: إلا بمعنى لكن، والمعنى: لكن المجاهرون بالمعاصي لا يعافون . .. والمجاهر هو الذي جاهر بمعصيته وأظهرها، والمعنى: كل واحد من أمتي يعفى عن ذنبه ولا يؤاخذ به إلا الفاسق المعلن. ..قوله: (وإن من المجانة) ، بفتح الميم والجيم وهو عدم المبالاة بالقول والفعل، وفي رواية ابن السكن والكشميهني: وإن من المجاهرة...كله صواب بمعنى الظهور والإظهار.
شرح القسطلاني = إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (9/ 50):
(إلا المجاهرون) بكسر الهاء إلا المعلنون بالفسق لاستخفافهم بحق الله تعالى ورسوله وصالحي المؤمنين، وفيه ضرب من العناد لهم. ..وأما الرواية بلفظ المجانة والمجانة مذمومة شرعا وعرفا فيكون الذي يظهر المعصية قد ارتكب محذورين إظهار المعصية وتلبسه بفعل المجان...وفي حديث ابن عمر مرفوعا عند الحاكم: "اجتنبوا هذه القاذورات التي نهى الله عنها فمن ألم بشيء منها فليستتر بستر الله".
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 282،279):
وقال القرطبي: اختلف عبارات المشايخ فيها، فقائلا يقول: إنها الندم، وقائل يقول: إنها العزم على أن لا يعود، وآخر يقول: الإقلاع عن الذنب، ومنهم من يجمع بين الأمور الثلاثة، وهو أكملها، وقال ابن المبارك: حقيقة التوبة لها ست علامات: الندم على ما مضى، والعزم على أن لا يعود، ويؤدي كل فرض ضيعه، و يؤدي إلى كل ذي حق حقه من المظالم، ويذيب البدن الذي زينه بالسحت والحرام بالهموم والأحزان حتى يلصق الجلد بالعظم، ثم ينشأ بينهما لحما طيبا إن هو نشأ، ويذيق البدن ألم الطاعة كما أذاقه لذة المعصية. و قال قتادة: توبوا إلى الله توبة نصوحا: الصادقة الناصحة...عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الله أفرح بتوبة عبده من أحدكم سقط على بعيره وقد أضله في أرض فلاة.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ذوالحجہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


