03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹوں اور تین بیٹیوں میں تقسیم میراث
84058میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

والد صاحب کا انتقال 1982میں ہوا،انہوں نے وراثت میں ایک کوٹھی 3 کنال اور 11 مرلہ  اور 15 تولہ سونا وراثت میں چھوڑا ،کوٹھی کی  مالیت 37 کروڑ ہے۔ سونے کی مالیت اس وقت30 لاکھ ہے،1982 سے آج تک والد کی وراثت تقسیم نہیں کی گئی ہے،ہم لوگ 9 عدد ہیں۔4بھائی،4 بہنیں، والدہ۔

ان میں سے جو فوت ہوئے ہیں:۔

1۔ والدہ           2۔ ایک بہن طلاق یافتہ بے اولاد                  3۔ایک بھائی  بے اولاد

 جو زندہ ہیں:۔

1۔ تین بھائی        2۔ تین بہنیں

برائے مہربانی اس 37 کروڑ30 لاکھ وراثت کی تقسیم حیات شدہ وارثوں میں تقسیم کر دی جائے۔

نوٹ:والدہ کاانتقال پہلے ہوا،پھر بھائی کا اور پھر بہن کا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1. مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:۔

1۔بیوی کا حصہ 12.5فیصد ہے۔ان کے حصے کی رقم46,625,000ہے۔

بقیہ مال کو آسانی کے لیے 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے،جن میں سے چار بیٹوں کو 8 حصے یعنی ہر ایک بیٹے کو دو حصے دیے جائیں، اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیاجائے۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم

1

بیوی

12

12.5فیصد

46,625,000

2

بیٹا

14

14.5833333334

54,395,833.333334

3

بیٹا

14

14.5833333334

54,395,833.333334

4

بیٹا

14

14.5833333334

54,395,833.333334

5

بیٹا

14

14.5833333334

54,395,833.333334

6

بیٹی

7

7.2916666667

27,197,916.666667

7

بیٹی

7

7.2916666667

27,197,916.666667

8

بیٹی

7

7.2916666667

27,197,916.666667

9

بیٹی

7

7.2916666667

27,197,916.666667

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

2.  والدہ کی میراث:۔( رقم: 46,625,000)

والدہ کے ورثہ میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم

1

بیٹا

2

16.6666666666

7,770,833.3333022

2

بیٹا

2

6.6666666666

7,770,833.3333022

3

بیٹا

2

6.6666666666

7,770,833.3333022

4

بیٹا

2

6.6666666666

7,770,833.3333022

5

بیٹی

1

6.6666666666

3,885,416.6666511

6

بیٹی

1

8.3333333333

3,885,416.6666511

7

بیٹی

1

8.3333333333

3,885,416.6666511

8

بیٹی

1

8.3333333333

3,885,416.6666511

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

3. فوت شدہ بھائی کی میراث:۔

(والد اور والدہ سے ملنے ولی رقم کا مجموعہ: 62,166,666.666636)

بھائی کے ورثہ میں تین بھائی اور چار بہنیں شامل ہیں۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم

1

بھائی

2

20

12,433,333.333327

2

بھائی

2

20

2,433,333.333327

3

بھائی

2

20

2,433,333.333327

4

بہن

1

10

6,216,666.6666636

5

بہن

1

10

6,216,666.6666636

6

بہن

1

10

6,216,666.6666636

7

بہن

1

10

6,216,666.6666636

 

 

 

 

 

 

 

 

 

4۔ فوت شدہ بہن کی میراث:۔

(والد،والدہ اور بھائی سے ملنے والی رقم کا مجموعہ: 37,299,999.999982)

بہن کے ورثہ میں تین بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں۔

 

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم

1

بھائی

2

22.2222222222

8,288,888.8888848

2

بھائی

2

22.2222222222

8,288,888.8888848

3

بھائی

2

22.2222222222

8,288,888.8888848

4

بہن

1

11.1111111111

4,144,444.4444424

5

بہن

1

11.1111111111

4,144,444.4444424

6

بہن

1

11.1111111111

4,144,444.4444424

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

5۔موجود زندہ ورثہ کو اس مجموعی رقم میں سے چاروں افراد(والد،والدہ،بھائی اور بہن)کی جانب سے ملنے والے حصص اور رقم کی تفصیل درج ذیل ہے:۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم

1

بیٹا

2

22.2222222222

82,888,888.888888

2

بیٹا

2

22.2222222222

82,888,888.888888

3

بیٹا

2

22.2222222222

82,888,888.888888

4

بیٹی

1

11.1111111111

41,444,444.444444

5

بیٹی

1

11.1111111111

41,444,444.444444

6

بیٹی

1

11.1111111111

41,444,444.444444

 

 

 

 

حوالہ جات

..

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

03/ذوالحجہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب