03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جی پی فنڈکا حکم
71633سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میں ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں،اس میں جی پی فند کےلیے جو کٹوتی ہوتی ہے،وہ غیر اختیاری ہے،مگر اس پر جو اضافہ ملتا ہے،وہ اختیار میں ہے،چاہے تو لے لوں اور چاہے تو نہ لوں۔اب ان پیسوں کو لینے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سرکاری ملازمین کی تنخواہ سےرقم کاٹ کر سال کے بعد یا ملازمت ختم ہونے کے بعد اضافی رقم دیناسود نہیں ،بلکہ  یہ بھی ملازمین کی تنخواہ  کا حصہ ہے،اس طرح کہ تنخواہ کا کچھ حصہ ملازمین کو ہر ماہ ادا کرنے کے بجائے روک لیا جاتاہے اور ریٹائرڈ ہونے تک مؤخر کیاجاتا ہے اور اس تاخیر کی بناء پراجرت بڑھا کر دی جاتی ہے،لہذااس کا لینا اور استعمال میں لانا جائز ہے۔البتہ اپنے اختیار سے اگر رقم کٹوائی جائے تو اس پر جو اضافی رقم حکومت کی طرف سے دی جاتی ہے،گو وہ  بھی سود نہیں،لیکن کچھ معمولی سی مشابہت سود کے ساتھ پائی جاتی ہے،اس لیے اس سے اجتناب بہتر ہے۔

 مذکورہ بالا حکم اس صورت میں ہے جب کٹوتی والی رقم اس ملازم کی تحویل میں نہ آئی ہو۔ اگر یہ رقم ملازم کی تحویل میں آکر پھر کسی شخص یا ادارے وغیرہ کے ذریعہ کاروبار میں لگائی   گئی ہویا ملازمین کے بنائے ہوئے کسی ٹرسٹ یا ادارے  نے قبضہ کرکے کاروبار میں لگائی ہوتو پھر کاروبار کی نوعیت کے اعتبار سے اس کا حکم ہوگا،اگر کسی جائز کاروباریا مستند غیر سودی بینک میں رکھ کروہ نفع حاصل کیا گیا ہوتو پھر اسے وصول کرنا جائز ہےاور کسی ناجائز کاروبار یا کسی سودی بینک سے حاصل کیا گیا ہوتو اس صورت میں ملازم کے لیے یہ اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں،فقط اپنی اصل رقم وصول کرسکتا ہے۔

حوالہ جات

وفي البحر(7/511):

( قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/جمادی الثانیہ1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب