03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وتر میں دعائے قنوت بھول کر رکوع میں جانے کاحکم
71635نماز کا بیانسجدہ سہو کابیان

سوال

اگر کوئی شخص وتر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنے کے بجائے رکوع میں چلاجائے اور تسبیح پڑھنے سےپہلے یاد آجائے تو اب کیا کرے؟واپس اٹھے یا رکوع مکمل کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر قیام میں دعائے قنوت نہیں پڑھی اور رکوع میں پہنچ کر یا دآیا، تو اب کھڑے ہو کر، یا رکوع میں ،یا رکوع کے بعد قومہ  میں  دعائے قنوت  پڑھنے کی ضرورت نہیں،بلکہ نماز پوری کر کے آخر میں سجدہ سہو کریں۔

حوالہ جات

وفی حاشية الطحطاوي (ص: 461):

لو تذكر القنوت في الركوع فإنه لا يعود ولا يقنت فيه لفوات محله ولو عاد وقنت لم يرتفض ركوعه لأن القنوت لا يقع فرضا فلا يرتفض به الفرض ويسجد للسهو على كل حال ليترك الواجب أو تأخيره۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/جمادی الثانیہ1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب