03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے حقوق
82082نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میری بیوی کو بھی بتائیں کہ شوہر کے اس پر کیا حقوق ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی کا رشتہ ایک انتہائی حساس اور نازک ترین رشتہ ہے،پرسکون ازدواجی زندگی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھے،اس کے بغیر ازدواجی زندگی پرسکون نہیں ہوسکتی،عورت اگر یہ چاہے کہ میں شوہر کو گھر کا سربراہ اور اپنا بڑا تسلیم نہ کروں،اس کے مقام و مرتبے کا لحاظ نہ رکھوں،لیکن شوہر میرے حقوق میں ذرا بھی غفلت نہ برتے تو یہ شوہر کی حق تلفی ہے،اسی طرح اگر شوہر خود بیوی کے حقوق کی کوئی پرواہ نہ کرے،لیکن چاہے کہ بیوی مکمل طور پر میری مطیع و فرماں بردار بن کر رہے تو یہ بھی سراسر نا انصافی اور ظلم ہے،کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے،زر خرید لونڈی نہیں،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

{وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [البقرة: 228]

اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کو ان پر حاصل ہیں،ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستور نہیں ہو سکتا اور اگر اس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گزاری جائے تو اس رشتہ میں کبھی بھی تلخی اور اختلاف پیدا نہ ہو، شوہر کے چند بنیادی حقوق درج ذیل ہیں:

1۔شوہر کی اطاعت :بیوی کے ذمے ہر جائز کام میں شوہر کی اطاعت لازم ہے،کیونکہ اللہ تعالی نے مرد کو حاکم بنایا ہے،یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر اسلام میں کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے"،البتہ ناجائز کام میں اطاعت کی اجازت نہیں،کیونکہ مخلوق کی رضا اور دلجوئی کی خاطر خالق کی نافرمانی جائز نہیں۔

2۔شوہر کے مال اور عصمت کی حفاظت :یعنی شوہر کے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرے،شوہر کا مال غیر ضروری کاموں میں نہ خرچ کرے اور نہ کسی نامحرم مرد سے تعلقات قائم کرے۔

3۔ زیب و زینت: عورت کو گھر میں میلا کچیلا نہیں رہنا چاہیے،بلکہ صاف ستھری رہے اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے بناؤ سنگھار کرے۔

 4۔ خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ جائے،البتہ خاوند کو بھی اس حوالے سے بے جا سختی نہیں کرنی چاہیے،بلکہ بوقتِ ضرورت خود لے کر جانا چاہیے۔

علاوہ ازیں میاں بیوی کا تعلق ایسا نہیں کہ صرف ضابطہ کے حقوق معلوم کرکے اس کے مطابق گزر اوقات کی جائے،بلکہ میاں بیوی میں سے ہر ایک ضابطہ کے حقوق سے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ جتنی خیر خواہی،ہمدردی اور محبت کا برتاؤ اور معاملہ  کریں گے اتنی ہی ازداوجی زندگی پرسکون ہوگی۔

حوالہ جات

"سنن الترمذي " (2/ 456):

عن أبي هريرة، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها".

قال ملا علی القاری رحمہ اللہ فی شرحہ المرقاة:" (وعن أبي هريرة قال: قال رسول ﷲ - صلى ﷲ عليه وسلم - لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد) : والسجود كمال الانقياد (لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها) : أي: لكثرة حقوقه عليها وعجزها عن القيام بشكرها وفي هذا غاية المبالغة لوجوب إطاعة المرأة في حق زوجها فإن السجدة لا تحل لغيرﷲ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب