| 84098 | نماز کا بیان | سنتوں او رنوافل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک آدمی نے ظہر کی سنت کے لئے نیت باندھی اس کے بعد جماعت کھڑی ہو گئی تو دو رکعت پر ہی سلام پھیر دیا، اب جماعت کی بعد صرف دو رکعت پڑھنا کافی ہے یا پوری چار رکعت پڑھنا ضروری ہے ؟ نیز ایسی صورت حال میں دو رکعت پر سلام پھیر دینا بہتر ہے یا چار رکعت پوری کرلینا چاہئے؟ بینو اتوجروا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بعد میں چار رکعت سنت مؤکدہ پڑھنا ضروری ہے ، دو رکعت کافی نہیں ۔ اور مذکورہ صورت میں دو رکعت پر سلام پھیرنے کی ضرورت نہ تھی چار رکعت پوری کر لیتے تو اچھا ہوتا اور یہی راحج قول ہے ، اگرچہ دورکعت پر سلام پھیرنا بھی درست ہے ۔
حوالہ جات
فی شرح معانی الآثار للطحاوي:
عن أبي أیوب الأنصاري قال : أدمن رسول اللہ ﷺ أربع رکعات بعد زوال الشمس فقلت : یا رسول اللہ ! إنک تدمن ہؤلاء الأربع رکعات فقال : یا أبا أیوب ! إذا زالت الشمس فتحت أبواب السماء فلن ترتج حتی یصلی الظہر، فأحب أن یصعد لي فیہن عمل صالح قبل أن ترتج فقلت : یا رسول اللہ ! فی کلہن قراء ۃ ؟ قال : نعم قلت : بینہن تسلیم فاصل ؟ قال : لا إلا التشہد ۔ (۱/۳۳۲، کتاب الصلوٰۃ ، باب التطوع باللیل والنہار کیف ہو)
فی مجمع الأنہر:
والسنۃ قبل فرض الظہر۔۔۔۔۔ وقبل الجمعۃ أربع بتسلیمۃ فلو صلی بتسلیمتین لم یعد من السنۃ ، لأنہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سئل عن هذہ الأربع بتسلیمۃ أو بتسلیمتین ؟ فقال : بتسلیمۃ واحدۃ من غیر فصل بین الظہر والجمعۃ ۔ (۱/۱۹۴، کتاب الصلوٰۃ)
فی مراقی الفلاح :
شرع فی سنۃ الظہر فأقیمت الجماعۃ سلم بعد الجلوس علی رأس رکعتین ، کذا روي عن أبی یوسف والإمام ، وهو الأوجہ لجمعہ بین المصلحتین ، ثم قضی السنۃ أربعاً لتمکنہ منہ بعد أداء الفرض. (ص؍۱۷۴، کتاب الصلوٰۃ)
فی الدر المختار(1/668):
(والشارع فی نفل لا یقطع مطلقاً) ویتمہ رکعتین (وکذا سنۃ الظھرو )سنۃ (الجمعۃ اذا اقیمت او خطب الا مام ) یتمھا اربعاً (علی) القول (الراجح) لا نھا صلوٰۃ واحدۃ ولیس القطع للاکمال بل للأ بطال خلافاً لما رحجہ‘ الکمال (الدرالمختار مع الشامی ج ۱ ص ۶۶۸ باب ادراک الجماعۃ)
فی کفایت المفتی(۳ / ۲۷۲):
(الجواب )ظہر کی سنتیں جو فرض شروع ہونے سے پہلے پڑھ رہا تھا اگر درمیان میں فرض شروع ہوجائیں تو سنتیں پوری کرکے سلام پھیرے اور فرض میں شامل ہوجائے لیکن اگر دو رکعت پر سلام پھیر کر فرض میں شریک ہوجائے اور پھر چاروں رکعتیں فرض کے بعد ادا کرے تو یہ بھی جائز ہے ۔ پہلی صورت بہتر ہے ۔کفایت اﷲ کان اﷲ لہ‘ دہلی .( وراجع ایضا فتاوی رحیمیہ:۵/١١۴، وبہشتی ثمرص: ١۳۴، وفتاوی محمودیہ : ۷/۱۹۸؍۱۹۹)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
4/12/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


