| 81997 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا مہر اور خطبے کے بغیر صرف ایجاب وقبول سے نکاح ہوسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے بنیادی ارکان ایجاب و قبول ہیں،جبکہ دو مسلمان،عاقل بالغ مردوں،یا ان صفات کی حامل دوعورتوں اور ایک مرد کی موجودگی نکاح کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے،اس کے علاوہ خطبہ سنت ہے اور مہر کا ذکر کرنا بھی بہتر ہے،لیکن ان کے بغیر دوگواہوں کی موجودگی میں محض ایجاب وقبول سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے،پھرمہر اگر فریقین کے درمیان طے ہو،صرف نکاح کے موقع پر ذکر نہ کیا گیا ہو تو طے شدہ مہر دلہن کو ملے گا،لیکن اگر سرے سے طے ہی نہ کیا گیا ہو تو مہرمثل ملے گا۔
مہر مثل سے مراد وہ مہر ہے جو دلہن کے باپ کے گھرانے میں عمر،خوبصورتی،کنوارے پن،مالداری اورسلیقہ مندی میں اس جیسی لڑکیوں کا عام طور پر مقرر کیا جاتا ہو۔
حوالہ جات
"الدر المختار"(3/ 108):
"(وكذا يجب) مهر المثل (فيما إذا لم يسم) مهرا (أو نفى إن وطئ) الزوج (أو مات عنها إذا لم يتراضيا على شيء) يصلح مهرا (وإلا فذلك) الشيء (هو الواجب".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
13/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


