| 82341 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو درج ذیل الفاظ کہے:" اگر آپ نے آج کے بعد میرے لئے کچھ بھی خریدا تو آپ کو طلاق ہوگی"۔
کیا جب بھی بیوی شوہر کے لئے کچھ خریدے گی تو طلاق ہو گی،یا ایک مرتبہ طلاق کے بعد شرط ختم ہو جائے گی؟جبکہ شوہر کہتا ہے کہ میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ شوہر نے طلاق کے صریح الفاظ کے ذریعے سے تعلیق کی ہے،اس لئے طلاق کی نیت نہ ہونے کے باوجود مذکورہ شرط کے پائے جانے کی صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوجائے گی،جس کے بعد عدت کے دوران شوہر کو قولی یا عملی طور پر رجوع کا حق حاصل ہے،تجدیدِنکاح کی ضرورت نہیں،البتہ عدت گزرنے کے بعد پھر نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑے گا۔
نیز ایک مرتبہ شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہونے کے بعد یہ تعلیق ختم ہوجائے گی اور اس کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
"الدر المختار"(3/ 352):
"(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق (قوله إلا في كلما) فإن اليمين لا تنتهي بوجود الشرط مرة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
18/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


