| 84061 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم!
مفتیان کرام سے سوال ہے کہ ایک مکان ہے جو کہ میری نانی حلیمہ کا ہے ،ان کی تین اولاد ہیں،پہلےپر میری والدہ جن کا نام فاطمہ ہے،دوسرے پر میرے ماموں جن کا نام محمد علی ہے اور تیسرے پر میری خالہ جن کا نام زینب ہے،شرعی اعتبار سے ان کا حصہ وراثت کیا بنتاہے ؟
نوٹ:نانی کا انتقال دس سال پہلے ہوچکاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحومہ کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل چار حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے دو حصے بیٹے یعنی آپ کے ماموں کو ملیں گے،ایک حصہ ایک بیٹی یعنی آپ کی والدہ اور ایک حصہ دوسری بیٹی یعنی آپ کی خالہ کا ہوگا۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا |
2 |
50فیصد |
|
2 |
بیٹی |
1 |
25 |
|
3 |
بیٹی |
1 |
25 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
04/ذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


