03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے بعد میاں بیوی کی شرعی ذمہ داریاں
82527طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

اگر طلاق ہوگئی ہے تو اب مجھ پر اور میرے شوہر پر کیا شرعی ذمہ داریاں ہیں؟

میرے شوہر نے اب تک میرا مہر جو ڈھائی لاکھ روپے ہیں،اب تک ادا نہیں کیا،کیا وہ ان پر ادا کرنا لازم ہے؟

مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑا گیا ہے،کیا طلاق کی صورت میں مجھے عدت کا نفقہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کے بعد آپ کے ذمے عدت گزارنا لازم ہے،جس کی مدت تین حیض(ماہواریاں) ہیں اور عدت کے دوران عورت کے لئے درج ذیل امور سے اجتناب ضروری ہے:

بناؤ سنگھار نہ کرے، چوڑیاں یادیگر زیورات نہ پہنے، خوشبو نہ لگائے، مہندی نہ لگائے، ریشمی، رنگے ہوئے اور پھول دار یا شوخ رنگ کے کپڑے نہ پہنے، بلاضرورت محض زینت کے لیے سر میں تیل نہ ڈالے، سرمہ نہ لگائے، چھوٹے دندانوں کی کنگھی نہ کرے، اسی طرح عدت کے دوران بغیر کسی شدید ضرورت کے گھر سے نکلنا بھی جائز نہیں۔

جبکہ شوہر کے ذمے لازم ہے کہ وہ آپ کا مکمل مہر ادا کرے،اسی طرح عدت گزرنے تک  آپ کا نان نفقہ بھی شوہر کے ذمے لازم ہے۔

نیز طلاق کے بعد عدت شوہر کے گھر میں گزارنا لازم ہے،اس لئے شوہر کے ذمے لازم ہے کہ وہ آپ کو عدت اپنے گھر میں گزارنے دے،لیکن اگر سسرال والے آپ کو ضابطے کے مطابق جگہ دینے اور ساتھ رکھنے پر آمادہ نہ ہوں تو پھر میکے میں عدت گزارنے کی وجہ سے آپ کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 102):

"(وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما)".

"الدر المختار " (3/ 536):

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،وفي الطلاق إلى حيث شاء الزوج، ولو لم يكفها نصيبها من الدار اشترت من الأجانب مجتبى، وظاهره وجوب الشراء - لو قادرة -، أو الكراء بحر، وأقره أخوه والمصنف.

قلت: لكن الذي رأيته بنسختي المجتبى استترت من الاستتار فليحرر.

 (ولا بد من سترة بينهما في البائن) لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة (وإن ضاق المنزل عليهما، أو كان الزوج فاسقا فخروجه أولى) لأن مكثها واجب لا مكثه، ومفاده وجوب الحكم به ذكره الكمال (وحسن أن يجعل القاضي بينهما امرأة) ثقة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

21/جمادی الثانیہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب