| 82485 | جنازے کےمسائل | تعزیت کے احکام |
سوال
ہم اپنے خاندان کی چار یا پانچ فیملیاں مل کر ایک فنڈ کا قیام عمل میں لاتے ہیں کہ اگر کسی کے گھر میں فوتگی ہوجائے تو اس فنڈ کے پیسوں سے مرحوم کے لواحقین کے لیے کھانے کا بندوبست کیا جائے(کھانے سے مراد بکرا ذبح کرنا ہے، اسے ہم بڑا کھانا کہتے ہیں) جوکہ ہماری پشتون روایت بھی ہے کہ جنازہ کے بعد یا پہلے لواحقین کے لیے جو پہلا کھانا ہوتا ہے وہ بڑا کھانا ہوتا ہے اور باقی تین دن تو چکن سے تواضع پڑوس اور دوست احباب سب کرتے ہی ہیں،سوال یہ بنتا ہے کہ اس طرح کی فنڈنگ شریعت سے متصادم تو نہیں ؟
چونکہ اکثر اوقات فوتگی والے دن کسی کے پاس پیسے ہوتے ہیں کسی کے پاس نہیں تو اس طرح کسی پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور خاندانی رسم بھی ادا ہو جائے گی اور ساتھ میں کھانا بھی بن جائے گا،کیااس مقصد کے لئے مذکورہ طریقے سے فنڈ قائم کرنا شرعا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کے لحاظ سے فوتگی کے موقع پر اہلِ میت کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اہل میت کے لیے کھانے وغیرہ کا انتظام کریں،لیکن چونکہ آج کل لوگ اس میں غفلت برتتے ہیں،اس لیے لوگوں کو سہولت کے لیے اس کا باقاعدہ نظم بنانا پڑتا ہے،تاکہ ایسے موقع پر پریشانی سے بچا جاسکے،لہذا اس مقصد کے لیے کمیٹی بنانے کی گنجائش ہے،تاہم مذکورہ بالا طریقے سے فنڈ کا قیام عمل میں لانے کی صورت میں درج ذیل باتوں کی پابندی ضروری ہے:
1۔ کھانے کا انتظام صرف اہل میت اور دور دراز سے آئے ان مہمانوں کے لئے کیا جائے جو کھانے کے لئے گھر واپس نہ پہنچ سکتے ہوں،ان کے علاوہ دیگر تمام لوگوں کے لئے عمومی دعوت کا انتظام کرنا درست نہیں۔
2۔عام حالات میں صرف ایک دن اور ایک رات کا انتظام کیا جائے،بلاضرورت دوسرے اور تیسرے دن کھانے کا انتظام شرعا ثابت نہیں،البتہ اگر رشتہ دار دوردراز سے آئے ہوں اور دوسرے یا تیسرے دن بھی ضرورت ہو تو بقدرِ ضرورت اس کی گنجائش ہوگی۔
3۔چونکہ کمیٹی کی انتظامیہ دراصل چندہ دینے والے کی طرف سےفوتگی کے موقع پر رقم خرچ کرنے کی وکیل ہوتی ہے اور وکیل جب تک رقم کو خرچ نہیں کرلیتا وہ چندہ دینے والے کی ملکیت میں رہتی ہے،اس وجہ سےسال گزرنے پر اگر مالک صاحبِ نصاب ہو تو اس کے ذمے اس رقم کی زکاة ادا کرنا لازم ہے،اسی طرح اگر کمیٹی کا کوئی ممبر اپنی جمع کرائی گئی رقم خرچ ہونے سےپہلے فوت ہو جائے تو اس کے حصہ کی رقم اس کی ملکیت میں ہونے کی وجہ سےاس کے ورثہ کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔
لہذا سال گزرنے پر کمیٹی میں موجود رقم کی زکوة ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے اور کمیٹی کے کسی ممبر کے فوت ہونے پر اس کے حصے کی رقم اس کے ورثہ کو واپس کی جائے۔
نیز اگر مذکورہ بالا شرائط کی رعایت رکھ کر اس انتظام کو چلانے میں عملی طور پر مشکلات ہوں تو پھر متبادل کے طور پر درج ذیل طریقہ کار کو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے:
- شروع میں چند لوگ مل کر کچھ رقم جمع کرکےاپنی رضامندی سے ایک وقف فنڈقائم کریں، جس کی آخری جہت فقراء ومساکین ہوں، یعنی یہ طے کیا جائے کہ اگر کبھی یہ وقف ختم کرنا پڑا تو اس میں موجود رقم فقراء ومساکین پر خرچ کی جائے گی۔ ( يہ یاد رہے کہ جتنی رقم سے شروع میں وقف فنڈقائم کیا جائے گا اتنی رقم وقف میں باقی رکھنا ضروری ہو گا، اس کے علاوہ بطورفنڈ دی جانے والی رقم خرچ کی جاسکے گی)
- اس وقف کی شرائط میں یہ بھی لکھا جائے کہ جو شخص اس وقف کو ماہانہ اتنا چندہ دےگا تو اس وقف کی پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ اس کے گھر میں فوتگی کی صورت میں اس کے ساتھ حسبِ استطاعت تعاون کیا جائے گا، نیز یہ تعاون چندہ کی رقم کی کمی بیشی کے ساتھ مربوط نہیں ہو گا، بلکہ وقف کے منتظمین متاثرہ گھرانے کی مالی حیثیت اورمہمانوں کی تعداد وغیرہ کا لحاظ رکھتے ہوئے تعاون کی مقدار کا فیصلہ کریں گے۔
- چندہ دہندگان کو قانونی طور پر اور نقدی کی صورت میں اس تعاون کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔
- وقف میں یہ شرط بھی رکھی جائے کہ وقتاً فوقتاً یہ وقف دیگر غرباء (جو اس وقف کو چندہ نہیں دیتے) کے افراد کے فوت ہونے پر بھی حسبِ استطاعت ایک معتد بہ اور خاطرخواہ مقدار میں خرچ كرے گا۔
- چندہ دینے پر کسی شخص کو مجبور نہ کیا جائے، بلکہ حسبِ صوابديد جو شخص چاہے اس وقف کو چندہ دینے والوں میں شامل ہو،البتہ وقف کی مصلحت کے لیے چندے کی کم از کم حد مقرر کرکے صاحبِ استطاعت لوگوں کو اتنا چندہ دینے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔
- وقف كا ممبر بننے كے ليے حقيقی اخراجات کے علاوہ کسی قسم کی کوئی رقم وصول نہ کی جائے، نیز اگر کوئی ممبر غریب اور وہ وسعت نہ ہونے کی وجہ سے کبھی طے شدہ رقم سے کم دے تو اس کی بھی گنجائش رکھی جائے۔
- امیر اور غریب سب پر برابر رقم خرچ کی جائے، نیزعام حالات میں ایک دن سے زیادہ کھانے کا اہتمام نہ کیا جائے،البتہ اگر باہر کے مہمان زیادہ ہوں اور دور سے آئے ہوں تو ایک دن سے زیادہ بھی کھانے وغیرہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ وقف قائم ہونے کے بعد چندہ دینے والے افرادکے گھر میں فوتگی ہونےپر وقف کی انتظامیہ کو وقف کے طے شدہ اصول وضوابط کے مطابق اہلِ میت کے ساتھ تعاون کرنے کی اجازت ہو گی،نیز ایسی صورت میں اس وقف میں جمع شدہ رقم پر زکوۃ بھی لازم نہیں ہوگی اور ممبر شپ ختم کرنے والے یا فوت ہونے والےشخص کی جمع کی گئی رقم واپس کرنا بھی ضروری نہ ہو گا،کیونکہ ان کی دی گئی رقم ان کی ملکیت سے نکل کر وقف فنڈ کی ملکیت بن جائے گی۔
حوالہ جات
" سنن الترمذي "(2/ 314):
عن عبدﷲبن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر، قال النبي صلى ﷲ عليه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. هذا حديث حسن".
نقل الملا علی القاری رحمہ اللہ فی شرحہ المرقاة:" قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ؛ لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه".
"رد المحتار"(2/ 239):
" (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى ﷲ عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ".
"الدر المختار " (6/ 665):
"أوصى (بأن يتخذ الطعام بعد موته للناس ثلاثة أيام فالوصية باطلة) كما في الخانية عن أبي بكر البلخي، وفيها عن أبي جعفر: أوصى باتخاذ الطعام بعد موته ويطعم الذين يحضرون التعزية جاز من الثلث، ويحل لمن طال مقامه ومسافته لا لمن لم يطل ولو فضل طعام إن كثيرا يضمن وإلا لا اهـ.
قلت: وحمل المصنف الأول على طعام يجتمع له النائحات بقيد ثلاثة أيام فتكون وصية لهن فبطلت والثاني على ما كان لغيرهن".
"السنن الكبرى للبيهقي "(6/ 166):
عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه ".
"رد المحتار" (4/ 363):
وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ.
"بدائع الصنائع " (2/ 9):
"وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور. ولا تجب الزكاة في المال الذي استولى عليه العدو وأحرزوه بدراهم عندنا؛ لأنهم ملكوها بالإحراز عندنا فزال ملك المسلم عنها".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


