03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹرک ڈسپیچنگ کمپنی کھولنے کا حکم
84103اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

" ٹرک ڈسپیچنگ  یو ایس اے"  امریکہ میں پاکستا ن سے ٹرک ڈسپیچ کا کام کرتا ہے۔ اس کام میں عموما چار لوگ ہوتےہیں: شپر جس کا سامان ہوتا ہے۔بروکر جو شپر کےسامان کےلیے  ٹرک والا ڈھونڈتا ہےاور سامان کو منزل تک پہنچانا اور ٹرک والے  کو پیسے دینا  اس کی ذمہ داری ہے،یہ شپر کے لیے کام کرتا ہے۔ ٹرک والا جو سامان لےکرجاتا ہے۔ڈسپیچر یہ  ہم ہیں ، یہ ٹرک والے کےلیے کام کرتا ہے۔ اس کو سامان ڈھونڈ کردیتا ہے اور بروکر کےساتھ معاملات طے کرتا ہے۔ شپر نے بروکر کو تما م معاملات کےلیے رکھا ہوتا ہے، ان کی آپس میں رقم طےہوتی ہے۔ بروکر اور شپر  علیحدہ کمپنی ہے۔ ٹرک والےنے  ڈسپیچر کو رکھا ہوتا ہے  اور اس کو مخصوص رقم یا فی صد  ی رقم ادا کرتا ہے ۔

  ہمارا کام کرنے کا طریقہ بحیثیت  ڈسپیچر  ٹرک والےکےساتھ یہ  ہوتا ہےکہ ہم ٹرک والے سے رابطہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو سامان  ڈھونڈ کردیں گے، آپ ہمارے  ساتھ کام کریں ۔ ایک مخصوص رقم طے کرکے،  مثلا پچاس ڈالر ماہانہ یا ہر سامان کےبل کا پانچ فی صد یا جو بھی طے ہو،مثلا پانچ سو ڈالر کا سامان اٹھا کر چھوڑنے کا بل  بنا ،اس کی پانچ فی صد ہم لیں گےیا پچیس ڈالر ۔ جب ٹرک والا ہم سے  کام کرنے  کےلیے راضی ہوجاتا ہےتو ہم بروکر سےرابطہ کرتے ہیں کہ ہمیں سامان چاہیے۔

 ہمیں  ٹرک والے کو بروکر سے رجسٹر کرنے   کےلیے فارم فل  کرنا ہوتا ہے ۔ ایک اہم بات یہ ہےکہ  بروکر اور ٹرک والےکے تمام معاملات ، کاغذی کاروائی  ، بل  وغیرہ  ہم بناتے ہیں۔ ٹرک والےکو پیسے دو طرح سے ملتےہیں: بروکر یا  فیکٹرنگ کمپنی  کے ذریعے۔ جس کی تفصیل یہ ہےکہ بروکر پوری رقم  تقریبا تیس دن  بعد  اد ا کرتا ہے یا کل رقم سے پانچ فی صد  یا اپنی  مرضی کے مطابق  کا ٹ کر ایک سے دو دن میں ٹرک والے کے اکاونٹ میں بھیج دیتا ہے ، یہ بروکر ٹرک والے کے اکاونٹ میں پیسہ بھیجتا ہے۔ فیکٹرنگ کمپنی ایک  علیحدہ کمپنی ہے جو ٹرک والے سے بل  خرید کر کچھ رقم کا ٹ کر اس کو رقم  فوری  دے دیتی ہے اور بعد میں بروکر سےپوری رقم تیس دن بعد لے لیتی ہے  ، مثلا  کل رقم پانچ سو ہے ، اداکردہ چار سو نویں ہے  ، یہ معاملہ  ٹرک والے اور فیکٹرنگ کمپنی کا آپس میں طے ہوتا ہے اور رقم ٹرک والے کے  اکاونٹ  میں آتی ہے ، ہمار ا ا س سے  کوئی تعلق نہیں ۔

 درج ذیل کاموں میں سے کونسا کام ہمارے  لیے شرعا جائز ہے :

۱: ٹرک والے کو بروکر کےپاس رجسٹر کرنے کے  لیے  ایک فارم فل کرنا ہوتا ہے ۔ اس فارم میں یہ بتا نا ہوتا ہے کہ ٹرک والا کس  سے  پیسے  لینا چاہتاہے  ۔ اگر فیکٹرنگ کمپنی  سے لینا چاہتا ہے  تو اس  کمپنی  کا نام بتا نا ہوتا ہے ،مثلا او ٹی آر  یا بذریعہ  بروکر  جو پوری رقم  بیس سے تیس دن کے ادھار پر یا کچھ فی صد کٹوتی پر ایک سے  دو دن میں، چاہتا ہے ۔ یہ باتیں ہم ٹرک والے سے پوچھ کر  فا رم میں لکھ دیتے ہیں۔

  اس کےعلاوہ  ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ  جس فیکٹرنگ  کمپنی  سے  ٹرک والا کا م کرتا ہے  ،کیا بروکر اس فیکٹرنگ کمپنی  کی لسٹ میں ہے یا نہیں ؟ یعنی  کیا وہ فیکٹر نگ کمپنی اس بروکر سے کام کرتی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ بروکرز پیسے  لے کر بھاگ بھی جاتے ہیں،  اس لیے  فیکٹرنگ  کمپنی  ہر بروکر سے  کام نہیں  کرتی  ۔

۲: بروکر کےساتھ  رجسٹر  ہونے کے بعد وہ ہمیں  بتائے گا کہ  سامان کہاں سے لینا ہے اور کہا ں چھوڑنا ہے  اور پیسہ  کتنے ہوں گے ،مثلا کراچی  تا لاہور اور  رقم  دس ہزار ہو گی  ۔ ہم ٹرک والےسے  پوچھ  کر تما م معاملات  طے کر لیتے ہیں اور کاغذی کاروائی  ہوجائےگی ۔

  ٹرک والا  کراچی سے  سامان اٹھائے گا اور لاہور چھوڑدے گا اور ہمیں  ڈیلیوری سلپ  کا ثبوت بھیج دے گا ، یہ ڈیلیوری سلپ اور بل ہم بروکر کو  بھیج دیں  گے ۔یہاں دو صورتیں ہیں : پہلی  صورت یہ  ہے کہ  اگر ٹرک والا  فیکٹرنگ  کمپنی  سے پیسے لینا چاہتا  ہے تو ہم  بروکر کو صرف  ڈیلیوری  سلپ بھیجیں گے  ، اس میں بھی  دو صورتیں ہوتی   ہیں :  ایک یہ ہےکہ بروکرکے نام کا بل بناکر  ہم ٹرک والے  کو بھیجیں گے  اور وہ اپنی  فیکٹرنگ  کمپنی  کو بھیج  دےگا ، کمپنی  بروکر سے رابطہ  کر کے پوچھے  گی اور کنفرم  ہونے پر ٹرک والے  کے  اکاونٹ  میں فوری پیسے بھیج  دے گی ۔دوسری   صورت یہ ہے کہ  ہم ٹرک والے  کو بتا دیتے ہیں  کہ اگر وہ فیکٹرنگ  کمپنی  سے پیسے لے گا تو ہم   بل   بنا کرنہیں دیں گے  ،وہ خود بل بنائے گا، یاد رہے کہ بل بروکر کےنام  کا ہے ، فیکٹرنگ  کمپنی کے نام کا نہیں ، اس لیے  کہ فیکٹرنگ  کمپنی کا کا م سودی ہے، اس لیے ہم بل بنانے سے معذرت کرلیتے ہیں ۔

  پیسوں کی پیمنٹ  کی   دوسری صور ت  یہ ہے کہ ڈیلیوری  سلپ  اور بل ہم بروکر کو بھیج دیں گے اور اس  کو بتا دیں گے  کہ ٹرک  والے کو فوری  رقم چاہیے  ،مثلا دس ہزار دو دن میں ، بروکر نے  کٹوتی کی رقم پہلے سے طے کی ہوتی ہے ،مثلا  تین  تا پانچ فی صد  ۔ ٹرک والے سے پوچھ کر    اس کو بتا دیں گے  او ر وہ رقم  کا ٹ کر  دو دن میں اکاونٹ  میں پیسے  بھیج دےگا  ، رقم  ٹرک والے  کے  اکا ونٹ میں آجائے گی  ۔ ہر ٹرک والا چاہتا ہے کہ مجھے  بیس تا تیس  دن کا انتظار نہ کرنا پڑے  اور  کام مکمل ہونے پر  فوری  رقم مل جائے  ۔ ٹرک والےکو رقم  ملنے کے بعد  وہ ہمیں  ہمار ی طے شدہ  رقم ادا کردیتا ہے، مثلا پانچ فی  صد ، وہ ہمیں  پوری رقم  کا پانچ فی صد  دے  گا،  نہ کہ کٹوتی کےبعد کی رقم  کا ۔

 فیکٹرنگ  کمپنی کا معاملہ سود ی ہے،  ہم وہ نہیں  کرتے ۔  اس میں  کس کس  معاملہ  میں کام کرسکتے ہیں اگر ٹرک  والا رقم  فیکٹرنگ  کمپنی سے لینا چاہتا ہے  ۔

۱: کیا فیکٹرنگ کمپنی  کی لسٹ سے بروکر  کا نام  دیکھ  سکتے ہیں جس سے وہ کام کرتی ہے  ؟ یہ اس صورت میں دیکھنا ہوتا ہے  جب ٹرک  والا  پیسے فیکٹرنگ  کمپنی سے لینا چاہتا ہو ۔ پھر ہم بھی   اسی  بروکر  سے کام کرتے ہیں، جس کی اجازت  فیکٹرنگ کمپنی  دیتی ہے ۔

۲:  کیا بروکر کے نام کا بل بنا کر  ٹرک والے کو بھیج  سکتے ہیں جو وہ  فیکٹرنگ کمپنی کو دے گا اور ان سے پیسے لے گا ؟ یا د رہے کہ ہم بروکر  کو بتا چکے ہیں کہ فیکٹرنگ کمپنی  کے معاملات  وہ خود دیکھے  گا  ،ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ۔

۳: کیا ٹرک والے کی رقم  جو فیکٹرنگ  کمپنی  سے آتی ہے ،اس میں ہماری  محنت کی رقم  ہمیں  حاصل  ہونا جائز ہے ؟یہ کل رقم  کا کچھ فی صد ہو گی،  نہ کہ کٹوتی  کے بعد کی  رقم کا ۔

۴: اگر ٹرک والا کہتا ہے کہ  بیس تا پچیس فی  صد کی کٹوتی کرکے   بروکر سے مجھے  فوری  رقم چاہیے تو کیا ہمارا  یہ معاملہ   طے کروانا جائز ہے ؟ اس صور ت میں  ٹرک والا بروکر  سے رقم لےگا  ،نہ کہ  فیکٹرنگ کمپنی سے ۔ ہم بل  پر لکھ دیں گے کہ پانچ فی صد او ر ایک سے دو دن  ، مثلا  دس ہز ار  روپے پر نو ہزار پانچ سو  اد اکرےگا، اس صورت میں  بل کے پیسے بروکر ٹرک والے کے اکا ونٹ میں خود بھیج  دے  گا  ۔ یا د رہے کہ بل  دس ہز ار کا بنے گا ۔ یہ بل  ٹرک والا فیکٹرنگ کمپنی  کو بھیجے گا  ،اگر وہ بروکر کے بجائے فیکٹرنگ کمپنی  سے لینا چاہے ۔

۵: کیا ہم ٹرک  والے  کو رجسٹر کرتے وقت  یہ معلومات دیں کہ وہ پانچ فی صد  کٹوتی سے فوری  رقم چاہتا ہے ،یہ  ہمارے لیے جائز ہے ؟

۶: کیا ہمارا بروکر کو یہ  بتانا اور بل بنا کر دینا کہ ٹرک والا  پانچ فی صد  کٹوتی  سے فوری رقم  چاہتا ہے ، جائز ہے ؟

۷: کیا ٹرک والے  کا ہمیں    طے شد ہ  رقم  دینا جائز ہے ؟ ہماری  طے شدہ  فی  صد کل رقم پر ہوگی ،نہ کہ  کٹوتی  کےرقم پر ۔

۸: اس کام  میں وی پی این کا استعمال ہوتا ہے  کیا یہ  جائز ہے ؟ کیونکہ اکثر بروکر کے ویب سائٹ  یا امریکی حکومت  کی ویب سائٹ  جس پر ٹرک والوں کا ڈیٹا ہوتا ہے،  وہ  وی پی این  کے  بغیر نہیں  کھلتی  ۔

۹: کیا  امریکہ  میں کمپنی  کھلوانا اس کےلیے  جائز ہے ؟

۱۰: کیا ٹرک  والے کو بتانا  کہ میں امریکہ  سے ہوں اور اپنا امریکی نام بتانا جائزہے ؟

۱۱: اس کام  کے  وائز اکاونٹ  یا سٹرائپ اکا ونٹ کھلوانا پڑتا ہے، جس میں  ٹرک والا  رقم بھیجتا ہے۔ اس اکا ونٹ سے آپ اپنے ذاتی  بینک اکاونٹ   بھیج سکتے ہیں  ۔ وہ ہر رقم  بھیجنے یا آنے پر پیسے کاٹتے ہیں  جیسے بینک کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے ؟

۱۲: بعض لوگ  اس کام کے لیے  امریکی بینک اکاونٹ  کھلواتے ہیں۔  کیا یہ  جائز ہے ؟

۱۳: ٹرک والے کو  بروکر  سے رجسٹر کرتے وقت یہ معلومات بھی دینا ہوتی ہیں کہ  ٹرک والے کا ٹرک اور سامان  کی انشورنس کتنی ہے اور کس کمپنی سے ہے ؟

۱۴: کیا بروکر  کا کٹوتی  کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱:  سودی کام میں تعاون کی وجہ سےجائز نہیں ، کیونکہ اس کا مقصد    ٹرک والے اور فیکٹرنگ کمپنی کے درمیان ہونے والے  سودی معاملے کےلیےراستہ ہموار کرنا ہے  ۔

۲،۳،۴،۷: بروکر  کا ڈسپیچر  کو ڈھونڈنا ، اس کے واسطے سے ٹرک والے کو رجسٹر کرنا ، ڈیلیوری کا آرڈر دینا اور ڈیلیوری سلپ وصول کرکے  بذریعہ بل ادائیگی   جائز ہے ، اس طرح ڈسپیچر کا بروکرکو ڈھونڈنا ، فارم پُر کر کے ٹرک والے کو رجسٹر کروانا ،  ڈیلیوری آرڈر کی  اطلاع دینا ، ڈیلیوری سلپ وصول کرکے   بروکر کو بھیجنا   بھی جائز ہے  اور ان  کاموں پرڈسپیچر اور بروکر دونوں  کا اجرت لینا جائز ہے ۔ البتہ  بروکر یا فیکٹرنگ کمپنی سے اجرت کی رقم کی  فوری وصولی کےلیے  کٹوتی  پر مشتمل  بل بناکر دینا اور اس کام پر اجرت لینا دونوں ناجائز ہے  ۔ فیکٹرنگ کمپنی سے وصولی کی دوسری صورت  جس میں ڈسپیچر  بل نہیں بناتا یا کٹوتی پر مشتمل بل نہیں بناتا ، میں ڈسپیچر کا اجرت لینا جائز ہے۔ ٹرک والےکا فیکٹرنگ کمپنی سے حاصل شدہ رقم سے ڈسپیچر  کی طےشدہ اجرت  ادا کرنا جائز ہے۔

  ٹرک والےکا فیکٹرنگ کمپنی کو بل دےکر کٹوتی کےبدلے فوری وصولی کا معاملہ سود کی وجہ سے  ناجائز ہے۔اس کے جواز کی صورت یہ ہے  کہ ٹرک والا   اجرت کی وصولی کےلیے کمپنی  کی خدمات بامعاوضہ      حاصل کرے اور  اپنی ضروریات کےلیے کرایہ کےبقدر  اس سے قرض حسنہ لے، کمپنی مہینہ کے آخر میں    بروکر کی ادا کردہ رقم میں سے   قرض سمیت اپنی  اجرت وصول کرلے ۔ واضح رہےکہ   اس  صورت کا جائز ہونا  دو شرائط کے ساتھ مشروط  ہے : اجرت  کی وصولی کےلیے اجارہ  اور قرض دونوں   عقود ایک دوسرے سے الگ ہوں اور وصولی اجرت کی اجرت کی  مقدار  قرض کی مقدار  اور وقت کےساتھ  مربوط نہ ہو۔

۵،۶: جائز نہیں، کیونکہ جس طرح سود کا لینا دینا ناجائز ہے، اس طرح  واسطہ بن کرکسی دوسرے کو  اس کا آرڈر دینا بھی ناجائز ہے۔

۸:  مختلف مقاصد  کےلیے  وی پی این کےاستعمال کی قانونا اجازت ہوتی ہے۔ٹرک ڈسپیچنگ کمپنی کےلیے  اگروی پی این کےاستعمال کی قانونا اجازت ہے تو اس کا استعمال جائز ہے، ورنہ نہیں۔

۹:    اگرامریکہ میں ڈسپیچنگ کمپنی کھولنے کےلیے انشورنس ضروری  نہ  ہو یا ضروری ہو، لیکن انشورنس  اور    روزگا ر کا متبال جائز  ذریعہ نہ مل رہا ہو   تو  کھولنے کی گنجائش ہے۔ اگر جائز متبادل ذریعہ میسر ہوتو کھولنا  جائز نہیں ہو گا ۔

۱۰: جھوٹ کی وجہ سے جائز نہیں۔ تاہم   غیر ملکی کا  یو ایس میں ڈسپیچنگ کمپنی کھولنے کےلیے امریکہ میں ایک  رجسٹرڈ ایجنٹ کا ہونا ضروری ہوتا ہے ،  ضرورت کے وقت اس سے اجازت لے کر  اس کا حوالہ دینے اور نام بتانےکی گنجائش ہے۔

۱۱: سٹرائپ اور وائز  اکاونٹ کھولنا جائز ہے ، کیونکہ سائل کے بقول یہ صرف آن لائن ٹرانزیکشن کےلیے استعمال ہوتے ہیں ، اس میں موجود رقم پر کوئی سود نہیں ملتا۔

۱۲: امریکہ میں کسی اسلامی بینک میں اکاونٹ کھولنا ممکن ہو تو اس میں کھولنا چاہیے ، بصورت دیگر بوقت ضرورت سودی بینک میں کرنٹ اکاونٹ کھولنے کی   گنجائش ہے۔

۱۳: جائز ہے،  کیونکہ اگر ٹرک والے کےلیے انشورنس  قانونا  لازم نہ ہو تواس میں ایک ناجائز  امر کی اطلاع دی جارہی ہے  اوراگر ٹرک والے کو کام کرنے کےلیے انشورنس کر انا قانونا لازمی ہو تو انشورنس جائز ہونے کی وجہ سے ا یک جائز   امرکی اطلاع دی  جارہی ہے۔

۱۴: سود کی وجہ سے ناجائز ہے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 242):

"الأجراء على ضربين: أجير مشترك، وأجير خاص. فالمشترك من لا يستحق الأجرة حتى يعمل كالصباغ والقصار"؛ لأن المعقود عليه إذا كان هو العمل أو أثره كان له أن يعمل للعامة؛ لأن منافعه لم تصر مستحقة لواحد، فمن هذا الوجه يسمى مشتركا.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 322):

وإذا باع فلساً بفلسين حالة الرواج، فهذه المسألة على ثلاثة أوجه:

أحدها: أن يبيع فلساً بغير عينه بفلسين بغير أعيانهما، وفي هذا الوجه البيع فاسد لوجهين:

أحدهما: أن هذا بيع الدين بالدين.

والثاني: أن الجنس بانفراده محرِّم للنساء عندنا على ما يأتي بيانه في موضعه إن شاء الله تعالى.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 388):

نوع آخر في صور البيوع الفاسدة والباطلةفمن جملة صورة الفاسدة أن يبيع بخمر أو خنزير، ومن جملة ذلك بيع الدين من غير من عليه الدين  .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 186):

ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة.

 (قوله لأن ماله ثمة مباح) قال في فتح القدير: لا يخفى أن هذا التعليل إنما يقتضي حل مباشرة العقد إذا كانت الزيادة ينالها المسلم، والربا أعم من ذلك إذ يشمل ما إذا كان الدرهمان أي في بيع درهم بدرهمين من جهة المسلم ومن جهة الكافر. وجواب المسألة بالحل عام في الوجهين وكذا القمار قد يفضي إلى أن يكون مال الخطر للكافر بأن يكون الغلب له، فالظاهر أن الإباحة بقيد نيل المسلم الزيادة، وقد ألزم الأصحاب في الدرس أن مرادهم في حل الربا والقمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا إلى العلة وإن كان إطلاق الجواب خلافه والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب اهـ.

قلت: ويدل على ذلك ما في السير الكبير وشرحه حيث قال: وإذا دخل المسلم دار الحرب بأمان، فلا بأس بأن يأخذ منهم أموالهم بطيب أنفسهم بأي وجه كان لأنه إنما أخذ المباح على وجه عرى عن الغدر فيكون ذلك طيبا له والأسير والمستأمن سواء حتى لو باعهم درهما بدرهمين أو باعهم ميتة بدراهم أو أخذ مالا منهم بطريق القمار فذلك كله طيب له أهـ ملخصا.فانظر كيف جعل موضوع المسألة الأخذ من أموالهم برضاهم، فعلم أن المراد من الربا والقمار في كلامهم ما كان على هذا الوجه وإن كان اللفظ عاما لأن الحكم يدور مع علته غالبا.

   نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

02 /ذی الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب