| 66937 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ! میری شادی کو سال ہو گیا ہے ، والدین کی مرضی خصوصا والدہ کی پسند کی جگہ پر شادی کی ہے- مگر کچھ عرصہ بعد ہی میری بیوی والدہ اور بہنوں کو بری لگنا شروع ہو گئی - والدہ اور بہنوں کے مطابق مجھے اپنی بیوی کو روبوٹ بنا کر رکھنا تھا ، وہ سانس بھی ان کے یا میرے حکم سے لیتی- بڑی بہن شادی شدہ ہے، بجائے اپنے گھر کو سنوارنے کے ، وہ مجھے اور میری بیوی کو ذہنی ٹارچر کرنے کی کوششوں میں لگی رہتی ہے ، اور اس سے چھوٹی والی تیس سال کی ہے، مگر ذات سے باہر رشتہ نہ دینے کی وجہ سے والدہ نے گھر بٹھا کر رکھی ہے ، وہ بھی ہر وقت غیبت چغلی ، بد گوئی اور سازشوں میں مصروف رہتی ہے - مختصرا یہ کہ میں نے بہت کوشش کی ہے والدین کی فرمانبرداری کی، پڑھائی ، نوکری ، شادی سب ان کی مرضی کے مطابق کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ یہ سب ایسا سلوک کر رہے ہمارے ساتھ – قرآن میں غالبا دس سے زائد مقامات پر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، میرے ذہن میں ہر وقت وہ آیات رہتی ہیں- جبکہ بیوی کے حقوق کے بارے بھی پڑھا ہے سمجھا ہے اور عمل کی کوشش کی ہے (ساتھ میں بیوی کو شوہر کے حقوق بھی بتائے ہیں ، سمجھ دیر سے ہی آئے ہیں خیر) میں نے پڑھا تھا کہ ماں تو اپنے بچوں کے جذبات/ذہن، دکھ، پریشانی بغیر سنے دیکھے سمجھ جاتی ہے، پھر ان معاملات میں والدہ کیوں نہیں سمجھ رہیں اپنے اکلوتے بیٹے کی پریشانی کو - جب بھی بڑی بہن آتی ہے تو راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے، ہر وقت میری بیوی کی غیبت سننی پڑتی ہے،مجھے ، چپ چاپ- حالانکہ گھر کے کام کافی حد تک کر لیتی بیگم ، گول روٹی تینوں بہنوں سے اچھی بنا لیتی ، سالن چاول بھی بہترین پکاتی - کوئی حل بتائیں ،طریقہ بتائیں ، وظیفہ ، ورد ، عمل بتائیں کہ ہم آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہ سکیں ، بغیر اک دوسرے کو تنگ کیے رہ سکیں - اپنے اپنے گھروں کی فکر کر سکیں-جزاک اللہ خیر (آرائیں برادری سے تعلق ، پہلا بچہ میکے میں ہو گا، رواج پورا کرنے کی غرض سے پانچ مہینے ہو گئے اپنی بیوی سے ملے اور ڈھائی ماہ کی اپنی بچی سے نہیں مل سکا ابھی تک صرف انہی جھگڑوں ، نفرتوں کی وجہ سے، کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟ والدہ تقریبا دیہاتی بریلوی ہیں سال میں دو تین میلاد کرواتی ہیں اپنےگھر اور ربیع الاول میں محلے میں کوئی میلاد چھوڑتی بھی نہیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اسلام نے ہرمسلمان کو تمام تعلق داروں سے حسن معاشرت کا حکم دیاہے، جیسے بیوی پرشوہر کے حقوق اور اس کے والدین کا احترام وتوقیر لازم ہے، اسی طرح شوہر کے ذمہ بھی بیوی کے حقوق لازم ہیں، اورشوہر کے والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ بہو کو اپنی حقیقی بیٹی سمجھتے ہوئے اس سے وہی سلوک وبرتاؤ رکھیں جو حقیقی بیٹی سے رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں جانبین کو حقوق کے مطالبے کے بجائے اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کرناچاہیے، بیوی کو چاہیے کہ اپنی ساس کی ہر بات برداشت کرے،ان کی ہر نصیحت کا خندہ پیشانی سے استقبال کرے اورشوہر کے والدین کی خدمت کرے ، یہ میاں بیوی دونوں کی سعادت اور اخروی نیک بختی ہے. اور شوہر کے والدین کے ذمے بھی لازم ہے کہ بہو کے حقوق کی رعایت رکھیں۔
تاہم اگربیوی میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ ساس کی طرف سے پیش آنے والے سلوک کو برداشت کرسکے توشرعاً اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ شوہر کے والدین کے ساتھ ہی رہے، بلکہ شریعت نے عورت کو الگ رہائش کا حق دیاہے، ایسی صورت میں شوہر کے والدین اور اس کی بیوی دونوں کے حق میں روز انہ کی اذیت سے بہتر یہ ہے کہ الگ رہائش اختیار کرلیں، لیکن علیحدہ رہائش اختیار کرنے میں شوہر کے والدین سے قطع تعلق کی نیت نہ ہو، بلکہ نیت یہ ہو کہ ساتھ رہ کہ والدین کو جو اذیت ہم سے پہنچتی ہے اور جو بے ادبی ہوتی ہے اس سے بچ جائیں، غرض خود کو قصوروارسمجھ کر الگ ہونا چاہیے، والدین کو قصوروار ٹھہرا کر نہیں۔ اور الگ ہونے کے بعد بھی شوہر کے والدین کی ہر خدمت کو اپنی سعادت سمجھا جائے۔
بیوی کے لیے الگ رہائش کا بندوبست ایک علیحدہ معاملہ ہے اور والدین کے ساتھ محبت کا اظہار اور ان کے ساتھ تعلق اور میل جول رکھنا ایک علیحدہ معاملہ ہے، اولاد کے دل میں والدین کی محبت ہونی ہی چاہیے اور والدین کے حقوق کی ادائیگی اولاد پر فرض بھی ہے۔ شوہر بیک وقت دونوں امور کو بحسن وخوبی انجام دے سکتا ہے،جیسے اپنے کاروبار اور ضروریات کے لیے انسان دن بھر گھر سے باہر رہتاہے، اسی طرح والدین کی خدمت ، ان سے میل جول، ان کے حقوق کی ادائیگی کی ترتیب بھی بنائی جاسکتی ہے، یہ کوئی ایسا کام نہیں کہ جو ناممکن یا بہت مشکل ہو، اللہ تعالی نے انسان کو اسی نظام سے منسلک پیدا کیا ہے ، اور اسی دنیا میں انہیں تعلقات کو نبھاتے ہوئے اس نے کامیاب زندگی گزارنی ہے، بیوی کا مطالبہ بھی اپنی بساط کے مطابق پورا کرے اور والدین کے ساتھ میل جول بھی بیک وقت برقرار رکھے، دونوں باتیں، گو کہ ہمت اور شخصی استقلال چاہتی ہیں، لیکن یہ مشکل یا ناممکن نہیں ہیں۔
جہاں تک علیحدہ رہائش فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے توشریعت نے اس معاملہ میں شوہر کی استطاعت اورحیثیت کوملحوظ رکھاہے ، اگرشوہراتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ مکمل طورپر جدا گھر دے یا شوہر استطاعت رکھتاہے لیکن بیوی متوسط یا عام خاندان سے تعلق رکھتی ہے توگھرمیں سے ایک ایسا جدا مستقل کمرہ جس کا بیت الخلا، باورچی خانہ وغیرہ الگ ہو اورعورت کی ضرروریات کوکافی ہوجائے ،جس میں وہ اپنامال واسباب تالالگاکررکھ سکے، کسی اورکی اس میں دخل اندازی نہ ہو، ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔
اوراگرشوہرزیادہ مال دار ہے اور اس کی استطاعت ہے کہ وہ مستقل طورپر علیحدہ گھر کا انتظام کرے اور بیوی بھی شریف اور اعلی خاندان سے تعلق رکھتی ہے تو بیوی کو الگ گھر کے مطالبے کا حق ہوگا، لیکن شوہر کی حیثیت کو مدنظر رکھ کر درمیانے درجے کے گھر کا انتظام لازم ہوگا۔
جدا رہائش (خواہ علیحدہ کمرے کی صورت میں ہو یا جدا مکان) مالکانہ حقوق کے ساتھ دینا بھی شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہے، بلکہ اگرشوہر نے کرائے یاعاریت کے مکان میں بھی یہ سہولیات بہم پہنچادیں تو عورت مزید مطالبہ نہیں کرسکتی،نیزشوہرجہاں بھی مناسب انتظام کردے عورت کے حق کی ادائیگی ہوجائے گی کسی خاص علاقے یا خاص معیار کے گھر کے مطالبے کا بیوی کو حق نہیں ہوگا۔ انسان کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے دکھوں سے مفر نہیں، یہ الگ بات ہے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دکھوں سے واسطہ پڑتا ہے اور زندگی اسے پہاڑ نظر آنے لگتی ہے۔ ایک گھر میں رہنے والے افراد اگر ایک دوسرے کے لیے اس قدر پریشانی کے باعث بنتے ہیں تو اس کی یہ وجوہات ہوسکتی ہیں:
(1)۔نفسیاتی پریشانیاں:نفسیاتی پریشانیوں سے مراد وہ تمام نفسیاتی امراض اور جلد اثر کر جانے والے جذبات ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنا توازن اور خود پہ کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔جیسے :غم، اضطراب و بےچینی ،ڈپریشن،ڈر، مایوسی
ان تمام آلام ومصائب سے نکلنے کے لیےانسان زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے یا پھر نشہ آور اشیاء وغیرہ کے استعمال سے غم کو ختم کرنے یا کم کرنے کی کوشش کرتا ہے،یہ ناجائز،حرام اور سراسر شریعت کے خلاف اورمزید پریشانی کا باعث ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ خود یا آپ سے وابستہ جو افراد اس معاملے میں شریک ہیں ان کے ساتھ بات چیت کی جائے،ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہوتو اس کی طرف توجہ دی جائے۔
(2)۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی دنیاوی امور میں مصروفیت کی بناء پر اپنے خالق اللہ تعالی کو بھول جاتا ہے،جس مقصد کے لیے وہ دنیا میں آیا ہوتا ہے اس کو فراموش کردیتا ہے،تب ہی یہ پریشانیاں آتی ہیں ،تاکہ بندہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے۔یا بندہ نیک ہوتا ہے،مگر پھر بھی یہ پریشانیاں اس لیے آتی ہیں تاکہ اس کے مقام اور مرتبہ میں بلندی حاصل ہو۔بہرحال دونوں صورتوں میں مایوس ہونے کے بجائے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
[لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ][ البلد:4]
’’ یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے ‘‘۔
انسان جب اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور یہ یقین بنا لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوت پر غالب ہے ، اللہ تعالی کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے، تو اس کے لیے سارے راستے آسان ہوجاتے ہیں اورپریشانیوں کی تکالیف سے نکل جاتا ہے۔
اس پریشانی سے نکلنے کا حل قرآن و حدیث میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
پہلا علاج :اصلاح عقیدہ:
بے شمار دکھوں،غموں اور پریشانوں کی بنیادی وجہ عقیدہ کی خرابی ہے،کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جو عقیدہ کی نعمت سے محرومی کی بنا پر ہمارے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں اور بہت سارے لوگوں کا اس طرف دھیان بھی نہیں ،صحیح عقیدہ دین اسلام کی بنیاد ہے اور ملت اسلامیہ کی اساس اسی پر قائم ہے اور انسان کے تمام اقوال و افعال اسی وقت صحیح اور بارگاہ الہٰی میں قبول ہوں گے جب اس کا عقیدہ صحیح اور درست ہوگا۔
[وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ][ النحل:36]
’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو)صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام (باطل)معبودوں سے بچو‘‘۔ ہر قسم کی مالی،بدنی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہو۔جس طرح اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی اس آیت میں فرمایا:
(قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [الانعام:162]
’’کہہ دو میری نماز،میری قربانی،میرا جینا، میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے‘‘۔
دوسرا علاج: تقویٰ:
جس مسلمان کو تقویٰ کی دولت نصیب ہو جائے وہ غموں اور پریشانیوں سے آسانی سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنی آسانیاں اور کشادگی پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ ] [الاعراف:96]
’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے‘‘۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ] [الطلاق:2،3]
’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہےاور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا][الطلاق : 4]
’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعا لیٰ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا‘‘۔
تیسرا علاج :کثرت سے استغفار و توبہ:
انسان جب کسی مصیبت پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو اسے چائے کہ اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ استغفار و توبہ کرے،یعنی فوراََ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگار سے مغفرت طلب کرے، اور اس کی طرف رجوع کرے، سچی توبہ کرتے ہوئے گناہوں کو چھوڑ نے کا عہد کرے، کیونکہ اکثر مصائب انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ][الشوری:30]
’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے‘‘۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى] [ ہود:3]
’’اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اس کی طرف متوجہ رہو، وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا‘‘۔
چوتھا علاج:اللہ تعالیٰ کا ذکر:
فرمان باری تعالیٰ ہے:
(اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىنُّ الْقُلُوْبُ)[الرعد:28]
جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ][البقر ۃ:152]
’’ اس لئے تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا‘‘۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن میزان میں وزنی ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں۔‘‘وہ یہ ہیں:’سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ‘
پانچواں علاج:نیک اعمال:
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ نیک اعمال کرنے کا حکم اور ترغیب دی ہے، اور یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ نیک اعمال ہی دنیا اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہیں۔جہاں نیک اعمال کا اہتمام انسان کی کامیابی کی بنیاد ہے،وہاں غموں،پریشانیوں اور دکھوںسے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚوَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ][ النحل:97]
’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً اسےنہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔
[ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ][الکہف:30]
’’ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے ‘‘۔
وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں جن سے ہم نامہ اعمال بھرکراللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں:
(1)اچھی نیت کرنا (2)کسی مسلمان کی مدد کرنا (3)کسی مسلمان کے عیب کے پردہ پوشی کرنا (4)نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا (5)سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا (6)نماز جنازہ پڑھنا (7)دینی علم سیکھنا (8) سلام کرنا، سلام کا جواب دینا (9)پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا (10)صلح کرادینا (11)جماعت میں صف کے خلا کو پر کردینا (12)صلہ رحمی کرنا (13)تلاوت قرآن کریم (14)زبان کو قابو میں رکھنا (15)فرض نماز کے بعد اذکار (16)جمعہ کے دن جلدی مسجد جانا (17)وضو کے بعد دعا پڑہنا (18)پہلی صف میں دائیں طرف نماز پڑہنا (19)اللہ سے دعا کرنا (20)ذکر اللہ کرتےرہنا (21)درود شریف پڑھنا۔
چھٹا علاج:یہ شعور کہ غم گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہیں:
ایک سچا مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ اسے دنیا میں جو بھی چھوٹا بڑا غم یا پریشانی لاحق ہوتی ہے اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمانوں کو جب کوئی رنج، دکھ فکر، حزن ایذا اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰٰٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہ دور کر دیتا ہے۔‘‘
ساتواں علاج:اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاکرتےرہنا:
غم ختم کرنے اور پریشانی دور کرنے کا ایک بہترین علاج دعا ہے ،ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت دعا کرتا رہے کہ پرور دگار اسے ہر غم ،پریشانی اور مصیبت سے بچائے رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی بھی کثرت سے پریشانیوں ،غموں اور مصیبتوں سے بچنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ میں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، جب کسی جگہ پر ٹھہرتے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے دعا کرتے ہوئے دیکھا، وہ دعا یہ تھی،
’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ‘
’’اے اللہ میں غم و فکر،عاجزی اورسستی،بخیلی اور بزدلی،قرض داری کے بوجھ اور ظالموں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
[اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْءَ] [النمل : 62]
’’بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے‘‘۔ اس لیے جب بھی انسان پر کوئی غم، دکھ،پریشانی نازل ہو تو وہ حقیقی خالق کے سامنے ہی اپنے ہاتھ پھلائے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نےقرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
[وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ][البقرہ : 186]
’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی پریشانی ہوتی۔ تو آپ یہ دعا پڑھتے:
’يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ‘
’’ اے زندہ رہنے والے اے سب کو تھامنے والے! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد مانگتا ہوں۔‘‘
سیدہ آسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہافرماتی ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاؤں ،جو تو مصیبت اور پریشانی کے وقت کہا کرے۔
(أَللہُ أَللہُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا)
’’اللہ اللہ میرا پروردگار ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت زدہ کے لیے ایک اور دعا بتائی ہے:
’اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ‘
’’اے اللہ میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں،بس تو آنکھ جھپکنےکے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر اور میرے لیے میرے تمام کام درست کردے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘
آٹھواں علاج:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بڑی اہم نیکی ، گناہوں کی معافی کا سبب، درجات کی بلندی، غم و پریشانی سے نجات ، دعا کی قبولیت کا وسیلہ ہے،سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں دعا میں آپ پر صلی اللہ علیہ وسلم پر کتنا درود پڑھوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تو جتنا چاہے تیرے لیے بہتر ہے پھر تیرا یہ مجھ پر درود پڑھنا تیرے تمام غم دور کردے گا، اور تیرے گناہ معاف ہوجائیں گے‘‘۔
نواں علاج:نماز کا اہتمام کرنا:
نماز مومن کی معراج ،آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کا سکون اور غموں اور پریشانیوں کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں اہل ایمان والوں سےفرمایا:
[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ][البقرہ:153]
’’اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰٰٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بھی پریشان ہوتے یا انھیں تکلیف دہ معاملہ سے واسطہ پڑتا تو آپ فورًا دو رکعت نماز پڑہتے اور اللہ تعالیٰ سے اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیے مدد طلب کرتے ۔
دسواں علاج:اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اقرار:
پریشانیوں کو ختم کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری و باطنی نعمتوں پر غور کرنے اور ان کے بدلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتا رہے،کیونکہ شکر ایسی دولت ہے جو انسان کو مذید نعمتوں کا وارث بناتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
[وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ][ إبراہیم:7]
’’اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا‘‘۔
گیارہواں علاج:صبر کرنا
پریشانیوں اور دکھوں کا بہترین اور بنیادی علاج صبر ہے۔
[يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ][ البقرہ:153]
اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰٰٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے ،کہ اگر اسے خوشی ملتی ہے ،تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ شکر کرنا بھی اس کےلیے بہتر ہے‘‘۔(یعنی اس پر اجر ہے)اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے ،تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے یعنی صبر بھی بجائے خود ایک عمل اور باعث اجر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ)[البقرۃ:155]
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔
بارہواں علاج:اصلاحی تعلق قائم کرنا
احکام شرع کا پابند،نیک ومتقی اللہ والے سے اصلاحی تعلق قائم کریں، ان کو اپنے حالات کی اطلاع دیکر شریعت کے مطابق راہنمانی لے کر اس کے مطابق عمل کریں۔
حوالہ جات
...
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
09/محرم1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


