03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکےالفاظ”اگر میں تیرے نزدیک آیا تو تم مجھ پر طلاق ہو”کا حکم
82868طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میرا نام طارق علی ہے،میرا تعلق ضلع مردان تحصیل رستم سے ہے،میں اور میری بیوی کے درمیان اکثر لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا ہے،میری شادی کو تقریبا تیرہ سال ہوگئے ہیں،آج سے تقریبا پانچ یا چھ سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی،لیکن پھر رجوع کرلیا تھا،اللہ نے مجھے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا ہے،میری ڈیوٹی ژوب کوئٹہ میں ہے،اس دفعہ جب میں اپنے گھر چھٹی پر آیا تو میرا بیوی کے ساتھ شدید جھگڑا ہوگیا،جس کے دوران میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ :"اگر میں تیرے نزدیک آیا تو تم مجھ پر طلاق ہو"۔

وضاحت: نزدیک آنے کا مقصد مباشرت تھا اور مباشرت کے دوران اعضاء مخصوصہ کا دخول تھا،دوسری بات یہ ہے کہ میں 20 دسمبر کو چھٹی پر گھر آیا تھا اور یہ واقعہ 22 دسمبر کا ہے،ٹھیک اسی دن میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور میں اس کے نزدیک نہیں ہوا،نہ ہی مباشرت کی،پھر 26 دسمبر کو میں اپنی ڈیوٹی پر واپس آگیا،میرے نزدیک آنے کا دورانیہ میری چھٹی کا ٹائم جوکہ 22 دسمبر تا 26 دسمبر تھا،اس دوران میں نے اپنی بیوی سے مباشرت نہیں کی۔

اس تفصیل کی روشنی میں آپ سے سوال یہ ہے کہ دوسری طلاق ہوچکی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں نزدیک آنے سے آپ کا مباشرت کی نیت کرنا تو شرعا معتبر ہے،لیکن اس تعلیق کو چھٹی کے دورانیہ سے مقید کرنے کے حوالے سے آپ کی نیت قضاءً معتبر نہیں ہے،کیونکہ تعلیق کے الفاظ عام ہیں اور عام میں تخصیص کی نیت قضاءً معتبر نہیں،لہذا ابھی تک تو شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی،لیکن جب بھی آپ بیوی سے مباشرت شروع کریں گےتو دوسری رجعی طلاق واقع ہوجائے گی۔

نیز اس کے بعد مباشرت کے عمل کو جاری رکھنے کی صورت میں رجوع بھی ہوجائے گا اور اس کے بعد آپ کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہ جائے گا،اس لئے آئندہ طلاق کے الفاظ استعمال کرنے میں حددرجہ احتیاط لازم ہے،ورنہ تیسری طلاق کے بعد بیوی آپ پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی اور پھر اس حالت میں دوبارہ نکاح ممکن نہیں رہے گا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 355):

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا".

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ": (ج 3 / ص 285) :

"( فإن وجد الشرط فيه ) أي في الملك بأن كان النكاح قائما أو كان في العدة (انحلت اليمين ووقع الطلاق ".

"رد المحتار"(3/ 783):

"لو قال: إن جامعتك أو باضعتك فهو على الجماع في الفرج، لأنه المتفاهم عرفا إلا أن ينوي ما دونه للاحتمال لكنه لا يصرف عن الظاهر في القضاء فيحنث بهما أي إذا نوى ما دونه يحنث به عملا بإقراره على نفسه بالحنث، ويحنث بالجماع في الفرج لتبادره، وكذا إن وطئتك فعبدي حر إلا أن يعني الوطء بالقدم، وفي إن أتيتك ينوي لاستواء احتمالي الجماع والزيارة، لكن لو نوى الزيارة حنث بالجماع لأنه زيارة وزيادة. اهـ".

"الفتاوى الهندية" (2/ 122):

"ولو قال: إن جامعتك أو باضعتك فهو على الجماع في الفرج ولو قال: إن أتيتك فكذا ينوي فإن نوى الجماع أو الزيارة فهو على ما نوى فإن نوى به الزيادة فوطئها حنث بخلاف ما إذا نوى الجماع فزارها فإنه لم يحنث وإن لم تكن له نية حكي عن الحاكم بن نصير بن مهرويه أنه قال: إن أتاها للزيارة ولم يجامعها لا يحنث وإن جامعها مع ذلك يحنث".

"الدر المختار " (3/ 784):

"(نية تخصيص العام تصح ديانة) إجماعا، فلو قال: كل امرأة أتزوجها فهي طالق ثم قال: نويت من بلد كذا (لا) يصدق (قضاء) وكذا من غصب دراهم إنسان فلما حلفه الخصم عاما نوى خاصا (به يفتى) خلافا للخصاف ".

"البحر الرائق " (4/ 356):

"وفي الولوالجية من الطلاق نية تخصيص العام لا تصح، وعند الخصاف تصح حتى إن من حلف، وقال كل امرأة أتزوجها فهي طالق ثم قال نويت به من بلدة كذا لا تصح نيته في ظاهر المذهب، وقال الخصاف تصح، وكذا من غصب دراهم إنسان ووقت ما حلفه الخصم عاما نوى خاصا لا تصح نيته في ظاهر المذهب، وقال الخصاف تصح لكن هذا في القضاء أما فيما بينه وبين الله تعالى نية تخصيص العام صحيحة بالإجماع مذكور في الكتب من مواضع منها الباب الخامس من أيمان الجامع الكبير، وما قاله الخصاف مخلص لمن حلفه ظالم والفتوى على ظاهر المذهب ".

"البحر الرائق " (10/ 303):

" أطلقه فشمل ما إذا كان بغير عوض أيضا ، وما إذا وقع بلفظ الخلع أو البيع أو المباراة ، وما إذا لم ينو الطلاق به ، ولكن بشرط ذكر العوض حتى لو قال لم أعن الطلاق مع ذكره لا يصدق قضاء ، ويصدق ديانة لأن الله تعالى عالم بما في سره لكن لا يسع المرأة أن تقيم معه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر كذا في المبسوط ، وحال مذاكرة الطلاق كالنية ،كذا في الخانية".

"المبسوط للسرخسي "(6/ 309):

"فإن قال الزوج: لم أعن بالخلع طلاقا وقد أخذ عليه جعلا لم يصدق في الحكم؛ لأنه أخذ الجعل على سبيل التملك ولا يتملك ذلك إلا بوقوع الطلاق عليها فكان ذلك أدل على قصده الطلاق من حال مذاكرة الطلاق ولكن فيما بينه وبين الله تعالى يسعه أن يقيم معها ؛لأنﷲ تعالى عالم بما في سره إلا أنه لا يسع للمرأة أن تقيم معه لأنها لا تعرف منه إلا الظاهر كالقاضي".

"البحر الرائق " (4/ 38):

"(قوله :ولم يصر به مراجعا في الرجعي إلا إذا أولجه ثانيا) أي لم يصر باللبث مراجعا إذا كان المعلق بالجماع طلاقا رجعيا عند محمد لأن الدوام ليس بتعرض للبضع، وقال أبو يوسف يصير مراجعا لوجود المساس بشهوة، وهو القياس، وجزم المصنف بقول محمد دليل على أنه المختار لأنه فعل واحد فليس لآخره حكم فعل على حدة، وقيل ينبغي أن يصير مراجعا عند الكل لوجود المساس بشهوة كذا في المعراج، وينبغي تصحيح قول أبي يوسف لظهور دليله".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

19/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب