03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق نامہ پر طلاق کی تعداد سے لاعلمی میں دستخط کرنا
84120طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

 میرے شوہرکے گھر والوں اور میرے گھر والوں کے درمیان لڑائی ہوئی، جس کی وجہ سے بات طلاق تک پہنچ گئی، میرے گھر والوں نے میرے شوہر کو خلع کے پیپر بھیجوائے ،جس کی وجہ سے میرے سسرال والے غصے میں آگئے اور انھوں نے طلاق کے پیپر بنوائے، میرے شوہر کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے گھر والوں نے طلاق کے پیپر بنوائے ہیں۔ میرے سسر نے میرے شوہر  پربہت ذہنی  دباؤ ڈالا کہ  تم اس پیپر پر دستخط کرو ،میرے شوہر کو اس بات کا  علم تھا کہ طلاق کے پیپرہیں ، لیکن  اس پر کتنی طلاق درج  ہے ،  اس کا علم نہیں تھا اور نا ہی ان کی نیت   مجھے طلاق دینے کی  تھی ، انہوں نے پوری کوشش کی کہ  وہ دستخط نہ کرے،  لیکن  میرے سسرال والوں نے بہت دباؤ ڈالا تھا، انہوں نے دستخط بھی غلط کیے تھے ،میرا سوال ہے کہ کیا  اگر شوہر کو علم نہ ہو کہ پیپر پر کتنی طلاق درج  ہے ، تب بھی طلاق ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ شوہر  کواتنا پتہ تھا کہ  اس کے گھر والے  اس کی  بیوی کے  طلاق نامہ پراس سے  دستخط کروا رہے ہیں  اور یہ بھی پتہ تھا کہ اس سے طلاق ہوجاتی ہے ، لہذامحض  معمولی ذہنی دباؤ کی وجہ سے طلاق پر اثر نہیں پڑے گا، اس لیے جیسے ہی انہوں نے   منسلکہ طلاق نامہ پر تین طلاقوں کے تین الگ الگ جملوں کے بعد دستخط کردیئے  ، تو اس سےقضاء  تینوں طلاقیں ایک ساتھ ہی واقع ہوگئی ہیں اور میاں بیوی کا نکاح  بھی ختم ہوگیا ہے،قضاء واقع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی اس طلاق نامے کو دلیل بنا کے کہہ دے یا کورٹ میں پیش کرے کہ اس کو تین طلاقیں ہوئی ہیں ، تو اس کی بات معتبر ہوگی، البتہ اگرشوہر اس بات پر حلف اٹھائے کہ اسے طلاق نامہ میں درج تعدادِ طلاق کا علم نہیں تھا ،تو ایسی صورت میں  دیانۃ صرف ایک ہی طلاق واقع ہوگئی ہے ، دیانۃ کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کے اس حلفیہ بیان کو بیوی تسلیم کرے اور بیوی کو اطمینان ہو کہ شوہر کا حلفیہ بیان درست ہےتو بیوی  اس کے مطابق عمل کرسکتی ہے، اس صورت میں عدت کے اندر شوہر زبانی یا عملی طور پر رجوع کرسکتا ہے، نئے نکاح کی ضرورت نہیں ، البتہ اگر شوہر نے عدت کے اند رجوع نہیں کیا، تو عدت گزرتے ہی نکاح  ختم ہوجائے گا، اور مطلقہ  عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،لیکن اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہیں، توکم از کم  دو گواہوں  کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ  نکاح کرنا پڑے گا۔

ضروری وضاحت: دستخط رضامندی کی محض ایک علامت  ہوتی ہے، کوئی آدمی جس طرح بھی یہ علامت  لگائے تو مضمون اس کی طرف منسوب ہوجاتا ہے،  اس کے لیے اپنےمخصوص دستخط ضروری نہیں  ہیں ، لہذا طلاق نامہ میں شوہر کے غلط  دستخط کرنے سے طلاق پر فرق نہیں پڑتا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 379):                                                                                                                                          رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها وكذلك لو قال لذلك الرجل ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين( 3 / 246):

وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(  

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 218):

والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به؛ لأنها لا تعلم إلا الظاهر وكل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين؛ لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قوله مع يمينه.

صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

24/ذی الحجۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب