| 84143 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
ایک سوسائٹی کی ایمنٹی پراپرٹی ہے، جس میں 800 گز پر مسجد تیار کی گئی ہے، ہزار گز پر رہائشی بلڈ نگ بنائی گئی ہے، اس کا با قاعدہ قانونی نقشہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ سوسائٹی کا آفس بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ جو جگہ لائبریری کیلئے تھی، اس کو ڈائیلاسس سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ڈھائی ہزار گز پر ہسپتال بنایا گیا۔ اس پورے پلاٹ کی لیز سوسائٹی کے نام پر ہے۔ سوسائٹی میں مختلف مینجمنٹ کمیٹیاں آتی رہتی ہیں اور سوسائٹی کو اپنے حساب سے چلاتی ہیں، لیکن جو بڑے فیصلے کرنے ہوتے ہیں، اس کے لئے ایک جنرل کمیٹی (SPECIAL MEETING) بلائی جاتی ہے۔ چونکہ تمام ممبران کے سوسائٹی میں شیئر ز ہوتے ہیں، اس لئے وہ سب سوسائٹی کے مالکان ہوتے ہیں۔
اب جونئی کمیٹی آئی ہے، اس کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ پورے پلاٹ پر کوئی تعمیر کرے۔ جبکہ اصولاً کوئی بھی بڑا خرچہ ہوتا ہے تو اس کے لئے اپروول کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوسائٹی کے بڑوں نے بہت پہلے کچھ دکانیں بنائی تھیں، چونکہ اس وقت سوسائٹی دکانیں لیز نہیں دے سکتی تھی ایمنسٹی ہونے کی وجہ سے، اس لئے انہوں نے ان دکانوں کو پگڑی سسٹم پر دے دیا، یعنی ان کو بیچا نہیں تھا، تا ہم اس کا کرایہ لیتے رہے۔ اتنے عرصہ میں جو مالکان تبدیل ہوئے، ان کے نام کا غذات پر تبدیل ہوتے رہے اور فیس بھی جمع ہوتی رہی۔ یہ طریقہ کار پچھلے 60 سالوں سے جاری تھا اور ممبران کاٹھیا واڑ سوسائی پر بھروسہ کر کے ان دکانوں اور فلیٹوں میں خرید وفروخت کرتے رہیں۔ اب نئی کمیٹی نے تمام دکانوں کو مسمار کر دیا اور لوگوں کو زبردستی نکالا۔ کچھ دکان داروں کو پیسے دیدیے اور کچھ دکان داروں نے پیسے قبول نہیں کیے تو انکو نہیں دیے۔ موجودہ کمیٹی کسی کی بات نہیں سن رہی ہے، اس پلاٹ پر کورٹ کیطرف سے اسٹے آڈر ہے، اس کے باوجو دتی نئی کمیٹی نے پلاٹ پر سوسائی کے پیسوں سے تعمیر شروع کر دی، جبکہ اس کا نقشہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظور بھی نہیں کروایا گیا۔ مسجد پہلے 800 گز پر تھی، اس کے اوپر مدرسہ تھا، طلبا و ہیں رہتے تھے ۔ اس تعمیر کے بعد اب بھی مدرسہ مسجد میں ہی چلے گا، تاہم جس جگہ کو مسمار کیا، وہاں پر اب طلبا کی رہائش کے لئے ہاسٹل بنا رہے ہیں، تاکہ طلبہ وہاں رہائش اختیار کریں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ :
(1)۔۔۔ کمیٹی کا بغیر اپروول کے یہ تعمیرات کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
(2)۔۔۔ لوگوں کی دکانوں کوگرانا، ان کو جبراً وہاں سے نکالنا اور اس جگہ کوئی دینی کام کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
(3)۔۔۔ سوسائی کے شیئر ہولڈ زیعنی مالکان سے اپر وول لیے بغیر مسجد کو اس کی مختص جگہ 800 گزسے بڑھانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
(4)۔۔۔ سائٹ پلان پر جو مسجد اور مدرسہ کا ایریا متعین ہے، اگر اس سے بڑھا کر دوسرے مقاصد کی جگہ پر قبضہ کیا جائے تو یہ زائد جگہ شرعی مسجد کی حدود میں داخل ہو جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ معاملے میں چونکہ فریقین کا اختلاف ہے اور معاملہ بھی مسجد و مدرسے کا ہے، اس لیے کسی ایک فریق کی طرف سے جمع کردہ سوال پر فتویٰ جاری کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ فریقین کو چاہیے کہ کسی مستند دار الافتاء میں جا کر اپنا اپنا موقف براہِ راست مفتیانِ کرام کے سامنے رکھیں اور حکمِ شرعی معلوم کریں، یا پھر فریقین مل کر ایک ایسی متفقہ تحریر جس میں تمام حقائق ٹھیک ٹھیک بیان کیے گئے ہوں، لکھ کر دار الافتاء بھیج دیں۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ذو الحجۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


