03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم
84331نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

میں اور ایک لڑکی نے باہمی رضا مندی سے نکاح کیا تھا، لڑکی کے ولی کی اجازت کے بغیر،  پھر ہم بہت وقت ساتھ رہے ، یعنی ہمبستری بھی کی ، پھر ایک دن لڑائی ہوئی ،  اور میں نے لڑکی کو تین طلاقیں  دے دی ، میں نے مولانا مکی الحجازی صاحب کا ایک بیان سنا ، جس میں انہوں نے بتایا کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک ولی کی اجازت کے بغیر نکاح تو ہو جاتا ہے ، لیکن دونوں کو الگ ہو جانا چاہیے ،   اور یہ نکاح ختم کر دینا چاہیے،  پھر دوبارہ ولی کی اجازت سے نکاح کر لینا چاہیے ، سوال یہ ہے کہ اب ہم کیا کریں؟  لڑکی کا ولی اب بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے ،  اور لڑکی اور میں آپس میں کفو ہیں (ہم پلہ ہیں) ہم شادی کرنا چاہتے ہیں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ وضاحت فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر عاقلہ بالغہ  لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کرے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے،  اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعًا و اخلاقًا و عرفًا سخت نا پسندیدہ  ہے،  اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کیا تو یہ نکاح  حنفیہ کے صحیح قول کے مطابق   منعقد نہیں ہوتا  ، اور کفو کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین، دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح اگر شرعی  طریقہ پر تمام شرائط کے ساتھ ہواتھا تو یہ نکاح صحیح تھا ، اور جو تین طلاقیں آپ نے دی ہیں اس سے آپ پر  بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، جس کے بعد عدت گزارنے کے بعددوسرے خاوند سے باقاعدہ نکاح وہمبستری اور پھر اس سے آزاد ہوئے ، اور اس کی عدت گزارے بغیر ان کا نکاح آپ  سے حلال نہیں ہے۔

حوالہ جات

 (فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا.(ردالمحتار: (55/ 3

قال العلامة الحصکفی رحمه الله:(ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان).(الدرالمختارمع ردالمحتار :  3/57)

الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.( بدائع الصنائع  :247/2)

 ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:إن الكفاءة في النكاح تكون في ... ست لها بيت بديع قد ضبط

نسب وإسلام كذلك حرفة ... حرية وديانة مال فقط.(ردالمحتار : 86/3)

ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً، وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق. ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما. ( الفتاوی الھندیۃ : 292/1)

إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتی تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.  (الھدایۃ: 2/409)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

16  ٖمحرم الحرام 1446

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب