03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بوٹ پر مسح کا حکم
74855پاکی کے مسائلموزوں پرمسح کرنے کا بیان

سوال

ہمارے ایک جاننے والے امریکہ کے ایک سرد علاقے میں مقیم ہیں۔ سردیوں میں وہاں چمڑے کے موزے سمیت بوٹ پہنتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا نماز کے لیے بوٹ پر مسح کیا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسے بوٹ جو ٹخنوں کے اوپر تک ہوں اُن پر مسح جائز ہے، بشرطیکہ وہ پاؤں دھو کر پہنے گئے ہوں۔

حوالہ جات

فی الدر المختار: 1/261

"(شرط مسحه) ثلاثة أمور: الأول (كونه ساتر) محل فرض الغسل (القدم مع الكعب) أو يكون نقصانه أقل من الخرق المانع، فيجوز على الزربول لو مشدودا إلا أن يظهر قدر ثلاثة أصابع."

طارق مسعود

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

4، جمادی الاولی،1443

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

طارق مسعود

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب