| 84419 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمة الله وبرکا ته ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی زندگی میں اپنی موت سے بہت پہلے اپنے بیٹوں کو زمین تقسیم کر کے دے دی، جبکہ اس کی ایک بیٹی بھی ہے، اس کو اس وقت نہیں دی، بعد میں ایک اسٹام پیپر پر اس نے ایک مولوی صاحب سے لکھوایا کہ میری جو بقیہ زمین ہے اس میں میری بیٹی کا حصہ ہے، مذکورہ شخص نے اپنے پوتوں میں سے بھی ایک کا نام لکھا ہے کہ میں اس کو زمین ہبہ کرتا ہوں۔ جبکہ اس ساری بات کا علم اس شخص کے بیٹوں کو نہیں، جس پوتے کو زمین ہبہ کی اس کو بھی علم نہیں کہ وادانے مجھے زمین ہبہ کی ہے اور کون سی جگہ ہبہ کی ہے۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیے گا کہ اس طرح ہبہ کرنے سے ہبہ تام ہو جاتا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہبہ ) گفٹ )شرعا اس وقت مکمل ہوتا ہے جب موہوبہ چیز کا مالکانہ تصرف وقبضہ موہوب لہ( جس کوہبہ کیا جارہاہے) کو دے دیاجائے، وگر نہ صرف نام کرنے سےموہوبہ چیز کسی کی ملکیت میں نہیں آتی بلکہ وہ واہب ہی کی ملکیت ہوتی ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں اگروالد نےاسٹام پیپر میں مذکورہ پوتے کا صرف نام لکھا ہے، اوراس کومالکانہ تصرف و قبضہ نہیں دیاتھا ، تویہ ہبہ تام نہیں ہواتھا ، ایسی صورت میں یہ ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے بدستور مرحوم کی ملکیت شمار ہوگا ، اورمرحوم کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔البتہ جس وارث کو زندگی میں کچھ نہیں دیا گیا اگر باقی ورثہ اس کو کچھ زیادہ دیں تو بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
(الدر المختار وحاشية ابن عابدين(رد المحتار) :/5 688(
(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) .... وفي الأشباه: هبة المشغول لا تجوز.
(الفتاوی الهندية :4/377)
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
23 ٖمحرم الحرام1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


